تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 32 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 32

کیا اور اس کی تعمیر حضرت سیح موعود کے جلیل القدر صحابی حضرت قاضی عبد الرحیم صاحب کی زیر نگرانی ماه مطور / اگست ۱۹۵۷ء میں پائیہ تکمیل تک پہنچی مینار بعد میں بنے ہیں ربوہ کی یہ پہلی مستقل مسجد ہے جس کے بنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمائی مسجد کے ایک رنگ میں مکمل ہونے پر حضرت مصلح موعود نے ۲۳ امان ۱۳۳ مارچ ۱۹۵۷ م کو اس میں پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور افتتاح سے قبل بطور شکرانہ ایک لمبا سجدہ شکر کیا اور حضور کی اقتداء میں باقی تمام دوست بھی سجدہ ریز ہو گئے۔فصل چهارم ر ایرانی ارباش بود ک بعد پلان پر خالی یا اساسات امور میرا اواسی نا حضرت الا ان ال الموعود نے ربوہ میں مستقل رہائش کے بعد پہلا خطبہ جمعہ بہتر تبوک ۱۳۲۷ /ستمبر ۱۹۲۹ء کو ارشاد فرمایا حضور نے ملہ حفیظ الرحمن صاحب ڈرافٹس مین آجکل انگلستان میں ہیں آپ لکھتے ہیں : یکی ۱۴ جولائی ائر کو ربوہ میں آیا میرے سپرد دفتر تعمیرات کی پلینگ برانچ کی گئی یعنی صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی تمام پختہ عمارات کے نقشہ جات کے ڈیزائن تیار کرنا میرے ذمہ لگایا گیا۔سب سے پہلا نقشہ مسجد مبارک ربوہ کا تیار کیا گیا۔دفتر تعمیر کے ایک کہتے کمرے میں رات کے وقت گیس کی روشنی کی گئی اور خاکسار نے محترم قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی کی ہدایات کے مطابق نقشہ تیار کیا۔کیونکہ منظوری کے لئے نقشہ جلد کمیٹی میں پیش ہونا تھا اس لئے رات کے وقت کام کیا گیا پھر نقش کمیٹی کی خوری کے لئے بھجوا دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر مسٹر بٹ نے اس پر منظوری کے دستخط کئے یا اصحاب احمد جبار 4 صفحہ ۷۴ ۷۶ مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے طبع اول جنوری ۹۵ ار حضور اگر چه ۱۹ تنبہ کی ۲۰۶ ۱۳ /ستمبر ۱۹۲۹ کو دار در بوہ ہوئے مگر جلد ہی حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کی بیماری کی وجہ سے لاہور تشریف لے گئے جہاں ۳۳ تبوک کو مسجد احمدیہ دہلی دروازہ میں خطبہ دیا۔اس کے بعد اگلا جمعہ معاویہ نے ربوہ میں پڑھایا جو رہائش ربوہ کا پہلا جمعہ تھا۔سد را نمین احمدیہ ربوہ کی مرکزی (بقیہ حاشیہ ۳ پر)