تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 417 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 417

تاک پو نچھا کروں گا مقصد اس کا یہی ہوتا ہے کہ وہ بڑا عالم فاضل ہے عقل بھی یہی کہتی ہے کہ چند ریاستوں پر کسی کا قبضہ کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔دلوں کو بدل دنیا اور ان کو فتح کر لینا یہ بڑی بات ہے۔فرض کرو پاکستان کسی وقت اتنی طاقت پکڑ جائے کہ وہ حملہ کرے اور سار سے امریکہ کو فتح کرنے اور امریکہ کے لوگ ہمیں ٹیکس دینے لگ جائیں لیکن امریکہ کا آدمی اسلام اور قرآن کو گالیاں دیتا ہو تو یہ بڑی فتح ہوگی یا امریکہ آزا دور ہے لیکن امریکہ کے ہر گھر میں رات کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولم پر درود بھیج کر سونے والے لوگ پیدا ہو جائیں تو یہ بڑی بات ہوگی ؟ پس عقل بھی یہی کہتی ہے کہ یہی مقصد سب سے بالا ہے۔یا مثلاً پاکستان کی ہندوستان سے کسی وقت لڑائی ہو جائے اور پاکستان ہند وستان کو فتح کرلے تو بھی یہ کونسی فتح ہے۔پہلے بھی یہی کہا گیا تھا ہندوستان کو فتح کر لیا گیا لیکن پھر وہ فتح کس طرح بے حقیقت بن کر رہ گئی اور کس طرح مسلمان سخت ذلت کے ساتھ وہاں سے نکلے کہ ہر شخص سے بزبان حال یہ کہہ رہا تھا کہ ست بہت بے آبدہ و ہو کہ تیرے کو چھ سے ہم نکلے لیکن اگر پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے مقتصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے مسلمان کھڑا ہو اور وہ پھر ہندوستان میں داخل ہو تلوار کے زور سے نہیں بلکہ قرآن کے زور سے۔بندوق کے زور سے نہیں بلکہ سچائی کے زور سے۔شام لال ہند و عبداللہ بن جائے۔سند رواس من و عبد الرحمن بن جائے۔ویدوں کی جگہ قرآن پڑھا جانے لگے تو آج تو تم اس طرح نکلے ہو کہ وہ تمہیں نکال کر خوش ہوئے ہیں لیکن اگر تم یہ فتح حاصل کر لو اور تم کسی دن آن سے یہ کہو کہ اب ہمارا کام ہندوستان میں ختم ہو چکا ہے اب ہم چھین کو بجاتے ہیں تو تم دیکھو گے کہ اس دن سارے ہندوستان میں گہرام مچ جائے گا اور ہر شخص رونے لگ جائے گا اور کہے گا خدا کے لئے ہمیں چھوڑ کر نہ جاؤ تم ہمارے لئے غیر اور برکت کا موجب ہو۔یہ چیز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی اور اسی کی قرآن بھی تائید کرتا ہے اور عقل بھی تائید کرتی ہے اور بعذ بات صحیحہ بھی تائید کرتے ہیں کیونکہ