تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 412
۴۰۵ مسلمان نوجوانوں کے اندر اس طرح نظر سے وہ کونسا انقلاب پیدا ہو سکتا ہے کہ ہر سلمان کا دل اچھلنے لگے کہ نیکی بھی اس مطمح نظر کے حصول کے لئے کچھ کوشش کروں شاید کہ میرا نام بھی تاریخ میں محفوظ ہو جائے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو پولیٹکل دنیا میں ایک تیسرے درجہ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور تیرے درجہ کی حیثیت کوئی ایسی چیز نہیں جو انتہائی مقصود قرار دیا جا سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان ممالک کی آزادی ضروری چیز ہے۔کون چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ غلام بنا رہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طمح نظر ایسا ہو سکتا ہے جس سے مسلمان نوجوانوں کی رگوں میں نیا خون دوڑنے لگے اور کیا اس کے ذریعہ سے اسلام کو کوئی اہم پوزیشن دنیا میں حاصل ہو جاتی ہے۔پس سوال یہ نہیں کہ اسلامی ممالک کی آزادی اچھی چیز ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ اگر وہ آزادی انکو حاصل ہو جائے تو پھر ہم کیا بن جاتے ہیں۔ایک غریب آدمی میں کے گھر میں آٹا بھی نہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے آٹا نہ ملے مگر آٹائیل جانے سے کیا اس کی دنیا میں کوئی پوزیشن قائم ہو سکتی ہے۔اگر سیر بھر آٹے کا اس کے لئے انتظام بھی ہو جائے تب بھی وہ جن کے پاس کئی کئی کروڑ روپیہ ہے ان کے مقابلہ میں اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہو سکتی پس ہم یہ نہیں کہتے کہ مسلمان حکومتوں کو آنا وی حاصل نہ ہو۔ہم چاہتے ہیں سلیمانی ممالک آزاد ہوں ، ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان حکومتیں طاقتور ہوں لیکن جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ اس آزادی کے بعد دنیا میں ہماری پوزیشن کیا بنتی ہے مسلمان اس بات کا مدعی ہے کہ وہ ساٹھ کروڑ ہے عیسائیوں نے جو تازہ جغرافیہ لکھا ہے : اس میں انہوں نے مسلمانوں کی تعدا داڑتالیس کروڑ میں لاکھ مالی لی ہے لیکن دنیا کی آبادی دو ارب چالیس کروڑ ہے۔دو ارب پچالیس کروڑ ہی میں اڑتالیس کروڑ بیس لاکھ تمام آبادی کا چوتھا حصہ بنتے ہیں۔گویا اگر سارے سلمان آزاد ہو جائیں۔اگر ہر اسلامی ملک میں اتنی ہی دولت ہو جتنی امریکہ میں پائی جاتی ہے، اتنا ہی اسلحہ ہو جتنا امریکہ میں پایا جاتا ہے، اتنی ہی تجارت ہو بتنی امریکہ میں پائی بھاتی ہے۔پھر بھی روپیہ میں سے چوٹی انہیں حاصل ہوگی۔اب تم خود ہی بتاؤ کہ بارہ آنے بڑے ہوتے ہیں یا چوٹی بڑی ہوتی ہے۔چوتی ہر حال چھوٹی ہوتی ہے اور بارہ آنے بڑے ہوتے ہیں۔وہ ہندو جس کو ہمارے آدمی تحقیر کے طور پر کی اڑ کر اڑ کہا کرتے تھے وہ بھی آزادی کے بعد بتیس کروڑ آبادی کا مالک بن چکا ہے۔پھر پچین کو دیکھ لو۔اس کی آبادی اور رقبہ کو لے لو اس کی آبادی پچاس کروڑ ہے۔اگر مسلمان اڑتالیس کروڑ ہی ہوں تو خالی چین کے لوگوں کی تعداد مسلمانوں