تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 409
اور کیا وہ قابل مواخذہ تھے۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہی بات کہی کہ ہم بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں۔اور جب آپ نے یہ بات کی کہ ہم بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں تو کیا آپ فتنہ پھیلا رہے تھے۔یہ بات تو عقل کے ہی ملا منہ ہے۔جو صداقت بھی دنیا میں آئے گی وہ یوں کہنے گی کہ ہم نے بڑھنا ہے۔سچائی کی علامت بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ بڑھے۔کیا کسی کا کسی عقیدہ کو صحیح سمجھے کہ مان لیناخت نہ ہوتا ہے، ہر گز نہیں۔اگر ہم انگلینڈ میں جا کر کہیں کہ ہم یہاں اتنی تبلیغ کریں گے کہ بادشاہ بھی احمدی ہو جائے گا تو یہ فتنہ نہیں ہو گا۔یہ فساد نہیں ہوگا۔وہ اتنا ہی کر سکتا ہے کہ کہ دے کہ میں احمد می نہیں ہوتا ہم کہیں گے اچھا تم احمدی نہ ہوئے تو تمہاری اولاد احمدی ہو جائے گی۔یہ صداقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔کجا یہ کہ اسے ختنہ کہا جائے۔جب ہم سجھتے ہیں کہ احمدیت بہتی ہے توہم یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ نوے فیصدی تو کیا اس سے بھی زیادہ لوگ اس میں داخل ہوں گے ڈالے تحریک احمدیت کے دن بنیادی اصول عقیدہ احمدیت کیوں جیتنے والا ہے ؟ اس کی تشریح و تو ضیح میں حضرت مصلح موعود نے اپنی اس تقریر کے دوران اور ان کی برتری نهایت لطیف پیرایہ میں بتایا کہ عقیدہ وہی درست ہوسکتا ہے جس کی تائید عقل و نقل اور جذبات صحیحہ سے ہوتی ہے اور احمدیت کا ہر عقیدہ اس معیار پر پورا اترتا ہے۔اس سلسلہ میں حضور نے بطور نمونہ احمدیت کے مندرجہ ذیل دش اصول کا ذکر فرمایا :- ا۔تمام انسان جو اب تک پیدا ہوئے اپنا کام ختم کر کے فوت ہو چکے ہیں۔خواہ وہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے ، خواہ روحانی بزرگ ہوں یا ماری۔۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ان معنوں میں خاتم النبیین تھے کہ تمام سابقہ نبیوں کی نبوت آپ کی صلی تصدیق کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی اور آئندہ آنے والے مامورین بھی آپ کی مہر سے ہی کسی در سبہ کو پہنچ سکتے ہیں محض آخری ہونا کوئی فخر کی بات نہیں۔ہو۔اسلام کا روحانی غلبہ تمام دنیا پر ہو گا۔العام اللی کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔۵ - قرآن کریم ایک زندہ ، نا قابل منشوخ اور ایک غیر محدود و مطالب والی کتاب ہے۔الفضل ١٣ تبليغ ۳۳ اش / فروری ۱۹۵۲ ص ۹۳۳