تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 407
اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے تبلیغی مشنوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری تبلیغ میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور جماعت نے ترقی کی ہے جس مقام پر ہم آج ہیں یقینا گذشتہ سال وہ مقام ہمیں حاصل نہ تھا اور جس قسم کے تغیرات اِس وقت رونما ہو رہے ہیں ان سے پتہ پہلتا ہے کہ جس مقام پر ہم آج ہیں آئندہ سال انشاء اللہ ہم اس سے یقیناً آگے ہوں گے۔یہ تغیرات نہ تمہارے اختیارات میں ہیں نہ میرے یہ خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔پس انسانی تدابیر کو نہ دیکھو بلکہ خدائی تقدیر کی اُنگلی کو دیکھو جو یہ بتا رہی ہے کہ حالات خواہ اچھے ہوں یا بڑے احمدیت کی گاڑی پھر خیال چلتی جائے گی۔انشاء اللہ نے حضور نے عالم اسلام کے مختلف اہم مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے عالیم اسلام کے مسائل پر تبصرہ فرمایا :- اور دعائے خاص کی تحریک اس سال ہمارے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے کی کافی مشکلات رہی ہیں۔مثلاً کشمیر کا مسئلہ ہے جو حل ہونے میں ہی نہیں آتا۔میرے منہ دیک اس مسئلہ کو یوں غیر معین بوھہ کے لئے ملتوی کرنا قرین مصلحت نہیں ہے۔ایک لمبے عرصہ تک باشند گانی کشمیر کو ایک غیر ملکی حکومت کے ماتحت رہنے دینا اور پھر یہ امید کرنا کہ وہ ہمیں ووٹ دیں گے کوئی ایسی تشفی کی بات نہیں ہے۔پھر ہمارے ملک میں اسی سال نواب زادہ لیاقت علی صاحب کا قتل بھی ایک افسوسناک واقعہ ہے جو نتیجہ ہے مولویوں کے اس پر اپیگینڈا کا کہ جس سے اختلاف رائے ہو بے شک اسے قتل کر دیا کرو مسئلہ فلسطین بھی کشمیر کے مسئلہ سے کم اہم نہیں ہے۔یہ ایک چھوٹا ساملک ہے اور وہاں لاکھوں مہا جرین کو آباد کرنے کا سوال درپیش ہے۔پاکستان کو یہ سہولت تھی کہ یہ ایک وسیلح ملک ہے جہاں مہاجرین کافی تعداد میں بسائے جا سکتے تھے لیکن وہاں یہ حالت نہیں ہے۔مہاجرین کی آبادکاری کے سوال کے علاوہ اس مسئلہ کا ایک نازک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے آقامحمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں دشمن اسلام کو بیسا دیا گیا ہے۔میں نے تو ابتداء میں ہی اس حدت کا اظہار کیا تھا لیکن اب تو یہودی علانیہ اپنی کتابوں میں مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر قابض ہونے کے ناپاک عزائم کا اظہار کے لئے لگے ہیں۔علاوہ از محمد ایران میں تبیل کا مسئلہ، مصر کا برطانیہ سے تنازعہ، سوڈان کی بے چینی اور شام کے فسادات یہ سب ایسے امور ہیں له الفضل ٢ صلح ۱۳۳۱ ش ص