تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 400
۳۹۴ کو احمدیوں کے خلاف اکسایا گیا ریٹ الغرض لائل پور اور اس کے مضافات میں ختنہ انگیزی کا باقاعدہ سلسلہ جاری تھا اور اس کی ایک کی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جلسہ پر حملہ کی صورت میں ظاہر ہوئی جس نے تحفظ ختم نبوت" سے متعلق احرار کے سب بلند بانگ اور بے بنیا د دعاوی کی قلعی کھول کر رکھ دی۔الجبار یدیہ کا دوبارہ اجراء اور حضرت مصلح موعود کا ہفتہ وار اخبار بور جو اخبار الحكم کی بدر“ طرح سلسلہ احمدیہ کے ابتدائی دور کی پر معارف افتتا حی مضمون تاریخ کا امین و پاسبان اور حضرت مسیح موعود و مهدی محمود کا دست و بازو تھا اور ۱۹۱۳ء میں بند ہو چکا تھا ۲۰ ریاہ فتح ۱۳۳۰ ہش کر دسمبر ۱۹۶۵ء کو دوبارہ قادیان سے جاری کر دیا گیا۔بدر کے دور جدید کا پہلا پرچہ نمونے کا تھا جس کے بعد ، رامان ۱۳۳۱ پیش / مارچ ۱۹۵۲ء میں یہ باقاعدگی سے شائع ہونے لگا۔شروع میں مولوی ہو گیا احمد صاحب را جی کی اس کے ایڈیٹر اور مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری اس کے نائب ایڈیٹر مقرر ہوئے۔بار تبلیغ ۳۳۳ اش / فروری ۱۹۵۴ء سے لیکہ ۲۸ طور ۱۳۳۵ / اگست ۱۹۵۶ء تک ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اپنے نے اس کی ادارت کے فرائض انجام دئے جس کے بعد در تبوک ۱۳۳۵ است رستمبر ۶۱۹۵۶ سے اس وقت تک مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری اِس کے ایڈیٹر ہیں اور نہایت جانفشانی اور کامیابی سے یہ اپنا فرض منصبی بجا لا رہے ہیں۔حضرت مصلح موعود نے بدر کے باقاعدہ اجر اسم حسی بیان اختتامی مضمون سپر و قلم فرمایا جو اسکی را نائن ۳۳۱ امیش کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع کیا گیا :- اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم : نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود له الفضل ۲۰ نبوت ۳۳۰۰ میش/ نومبر ۱۹۵۱ء ست به ته سے بر سطور ه ار ما دانستنی ۱۳۷۲ ش ( مطابق دار دسمبر ۱۹۷۳ء) کو لکھی جارہی ہیں ؟