تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 396
۹۰ اُن کے سیلیٹوں میں پہلے سے موجزن تھا اُن کی زبانوں اور فلموں سے بھی بھاری ہو گیا اور وہ نظام خلافت کے حقیقی اور جانثار خادموں اور چاکروں کی طرح اپنے پیارے امام کے حضور ندامت پھر سے الفاظ میں اپنی کوتاہی اور غفلت کا اظہار کر کے معافی کے خواستگار اور دعاؤں کے طلب گار ہوئے۔چنانچہ ناظر صاحبه دعوت و تبلیغ کا معذرت نامہ الفضل میں چھپا اور ایڈیٹر صاحب" الرحمت نے نہ صرف قدوسی صاحب کے مضمون کی الرحمت ہمیں پھر زور تردید کی بلکہ منصور کی خدمت میں نہایت ادب کے ساتھ عراق کیا کہ :- و الرحمت کا کوئی مستقل دفتر نہ تھا۔ڈاک کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔مجھے دونوں طرف کام کرنا پڑتا تھا اور اکثر ادھر اُدھر بیٹھ کر ہی پر چہ ترتیب ہوتا تھا اور ڈاک اکثر دفتری دستبرد کی نذر ہو جاتی تھی لیکن اس کے باوجود یکی دفتری افراتفری کی آڑ نہیں لیتا غلیلی ہر حال غلطی ہے اور است تسلیم کرنے ہی ہمیں سنجات معضمر ہے اور یکں اس پر سخت نادم ہوں۔خلافت ایک رحمت ہے ایک ، برکت جس کے عنقا ہو جانے کی وجہ سے نہ صرفت قوم کی جمعیت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے بلکہ میرے نزدیک تو اس قوم پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارشیں بھی لڑک جاتی ہیں۔خلافت کے عزل کا نا پاک خیال بھی دل میں لانا اپنی عاقبت اور اپنے انجام پر اپنے ہاتھوں کلہاڑا چلانے کے متراد من ہے۔لیکس نے حضور کے ارشادات اور مکرم جناب ناظر صاحب کا اعلان پڑھنے کے بعد جتنی دفعہ بھی اپنے دل کو ٹٹولا ہے مجھے اُس میں مخلافت سے محبت ، ارادت اور والد ما نہ عقیدت کے سوا اور کچھ نہیں ملا اور یہی میرا سرمایہ حیا یہ ہے “ لے العرض الرحمت کے کالموں میں سمانہ عمل سے تعلق بظاہر چند ضمنی فقروں کی اشاعت جماعت احمدیہ میں خلافت کے بابرکت اور دائمی نظام کے ساتھ پہلے سے بڑھ کر عقیدت و اُلفت پیدا کرنے کا موجب بن گئی اِس طرح رحمت خداوندی نے شہتر کے اندر سے ہی بالآخر خیر و برکت کا نیا سامان پیدا کر دیا۔تان اور لائلپورکے جلہ ایران میں ہنگام آرائی را و نبوت ان کر نوبر ۱۸ ریاه ۱۳۳۰ اہش 1951 کو جماعت احمدیہ کی طرف سے لائل پور اور ملتان میں حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء حضرت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ه الفضل الارنبوت ۱۳۳۰ ایش/ نومبر ۱۹۵۸ء مث :