تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 395 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 395

۳۸۹ اپنی جانیں راہ حور میں نچھاور کر دیں کہ وہ اس باطل نظریہ کو ایک لمحہ کے لیئے بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔علاوہ ازیں اسلام کے دور ثانی نہیں حضرت مولانا نورالدین خلیة البیع الاول رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے اس نظریہ کا باطل ہونا ثابت کر دکھا یار پیس پیسٹ کیسی نئے احمدی اور نسلی احمدی کے لئے بھی کوئی نیا مسئلہ نہیں اور اس پر اسلام کے دورہ اقول اور ثانی میں ایک فید لہ من مسنگ امت مسلمہ کے لئے متعین ہو چکا ہے۔اس سلسلہ میں حضور نے نہایت درجہ قوت و شوکت بھرے الفاظ میں تحریر فرمایا: اگر خلیفہ اسلام میں معزول ہو سکتا تھا تو یقیناً حضرت علی نے مجرم ہوں، کیونکہ ان کی اپنی تماعت کے ایک بڑے حقہ نے کہہ دیا تھا کہ ہم آپ کو خلافت سے معزول سمجھتے ہیں لیکن بجائے اس کے کہ قروسی کی روح کو خوش کرنے کے لئے سمرت علی خلافت چھوڑ دیتے انہوں نے تلوار میان سے نکال لی اور ہزارو ، ہزار خارجی کو قتل کر کے رکھ دیا۔اگر خلیفہ معزول ہو سکتا ہے تو ان لوگوں کا قصور کیا تھا۔وہ تو وہی بات کرتے تھے جس کا قرآن نے ان کو حتم دیا تھا۔جب ایک مسلمان کا قتل بھیجی دو رخی بنا دیتا ہے تو کیا کہیں گے قدوسی سائب حضرت علی ترکی متعلقہ جنہوں نے ہزاروں، ہزار مسلمان کو اس مسئلہ پر منتقل کر کے رکھ دیا۔دوسری مثال حضرت عثمان کی ہے حضرت عثمان سے بھی باغیوں کا یہی مطالبہ تھا کہ آپ خلافت چھوڑ دیں ہم آپ کو معزول کرتے ہیں۔حضرت عثمان نے اپنے نرم مزاج ہونے کی وجہ سے تلوار تو نہیں نکالی لیکن خود اپنی جان قربانی کے لئے پیش کر دی اور عمل کا عقیدہ رکھنے والوں کا منہ کالا کر دیا۔حضرت ابو بکر نے خلافت کی ضرورت کا مسئلہ ثابت کیا اور حضرت عثمان اور حضرت علی نے خلیفہ کے معزول نہ ہونے کا مسئلہ ثابت کیا۔گویا ابتدائی خلافت راشدہ نے اپنے عمل اور اپنے فیصلہ سے ان مسائل کو حل کر دیا تھا اور پھر ہمارے زمانہ میں آکے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہدیہ، یہ سوال اُٹھا اور آپ نے فرمایا تم کون ہوتے ہو مجھے معزول کرنیوالے گویا ابتدائے اسلام اور ابتدائے احمدیت میں یہ سکے زیر بحث آئے یا اسے خدائے ذوالجلال کے خلیفہ موجود کے قلم مبارک سے نکلے ہوئے ان کلمات نے صور اسرافیل نیا نام دیا جس کے نتیجہ میں دنیا بھر کے مخلصین احمدیت خصومنا الرحمت کے مدیر اور اس اخبار کے نگران ناظر و عوت و تبلیغ کی خفته روحوں کو بیکا ایک بیدار کر دیا اور خلافت سے محبت کا پاک چشمہ جو الفضل ۲۸ اخاء ۱۳۳۰ تاش / اکتوبر ۱۹۵۱ء ص :