تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 394
ہے جہاں تک عزا خاخاء کے ناپاک نظریہ کا تعلق ہے آپ اس کو اسلام کی روح کے سراسر خلافت سمجھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ گو خلیفہ کا اقر را انتخاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن بہیت (استخلاف) کی نہیں، صریح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت کو اپنے فیصلہ کا اس امر میں ذریعہ بناتا پہلے اور اس کے دماغ کو خاص طور پر روشنی بخشتا ہے لیکن مقدریہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔چنا نچہ فرماتا ہے کیس تن افتم کہ وہ خود ان کو خلیفہ بنائے گالیوں کو شفاء کا انتخاب مومنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا الہام لوگوں کے دلوں کو اصل حقدار کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسے منافاء نہیں نہیں فلاں فلاں خاصیتیں پیدا کر دیتا ہوں اور یہ خلفاء ایک انعام الہی ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو امت اسلامیہ معزول نہیں کر سکتی این شخص کو تو شیطان کے پہلے ہی معزول کریں گے ہاتھ اللہ تعالیٰ کی مصلحت خاص نے حضرت مصلح موعود کے فولادی قلم سے اس سال عزل خلفاء کے ناپاک خیال کو پاش پاش کرنے کا ایک نیا موقع پیدا کر دیا۔واقعہ یہ ہوا کہ لاہور کے ایک ادبی اور علمی اخبار "الرحمن نے ایک مضمون قدوسی کے اخباری نام سے شائع کیا جس میں نا دانستہ طور پر تاریخ اسلام کا ایک ایسا ورق چھپ گیا جس میں دوسری روایتوں کے ساتھ جبلہ بین ایم کے متعلق ایک ایسی کمزور روستا بھی آگئی جس میں نعوذ باللہ حضرت خلیفہ ثانی سید نا عمر رضی اللہ عنہ کو عبادہ بن صامت کے ملامت۔کرنے کا ذکر تھا جس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا اسلام کی رو سے معاذ اللہ خلیفہ برحق کا عزلی بھی جائز ہے۔لہذا حضرت امیر المومنین نے ۲۴- اضاء ۳۳۰ امیش کو " اخبار الرحمت و عزل خلفاء کے عنوان سے ایک پر جلال تنقیدی نوٹ لکھا جس میں بتایا کہ قرن اول میں حضرت عثما رہے اور حضرت خار جیسے نامردو خلفاء نے مسئلہ عنوان خلفاء کے خلاف زبردست جہاد کیا اور ہزار وا مسلمانوں نے محض اس لئے ا تقریر حضرت خلیفہ مسیح الثانی جلسه سالانه ۶۱۹۳۹ " خلافتِ راشد صدا به سه خلافت ها شده سے یہاں مزید وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جبہ، الرحمت نے یہ مضمون شائع کیا اس وقت نه تو یه اخبار شیخ روشن دین، صاحب تنویر مدیر الفضل کی ادارت میں نکلتا تھا اور نہ اسے جماعت کے ابی ترجمان ہی کی حیثیت حاصل تھی جے