تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 392
۳۸۶ اپنے ملک کو واپس جائیں لیکن کھیلے ایک دو سال سے اس طرف کچھ تو جہ دیکھتا ہوں مگر وہ تو بر ضرورت سے ابھی بہت کم ہے۔پھر جماعت کی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اُس کا امام سے براہ راست تعلق ہو اور وہ اس کی دعاؤں سے حصہ لے مگر مجھے افسوس ہے کہ امریکہ اور مغربی افریقہ کے مقابلہ ہیں جو دونوں عالی امام کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں نہایت ہی آگے آگے ہیں انڈونیشیا کی جماعتوں نے اُس رنگ میں امام سے تعلق پیدا نہیں کیا۔اب کچھ عرصہ سے ایک دو جماعت کے عہدیداروں نے اور چند افراد نے خط و کتابت شروع کی ہے اور یہ ایک نیک تبدیلی انڈونیشیا میں پیدا ہوئی ہے لیکن ابھی اس میں بہت کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔جس کو بھی جس زمانہ میں خدا تعالیٰ ساری جماعت کا امام بناتا ہے وہ باقی جرات کا روحانی باپ ہوتا ہے۔اور جب تک افراد جماعت کا تعلق اُس سے ایسی صورت میں نہ ہو جیسا کہ شریف اور نیک بیٹے کا اپنے باپ سے ہوتا ہے اس وقت تک وہ شخص یا وہ قوم یا وہ ملک ان کو جانی برکات کا امیدوار نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن لوگوں پر نازل ہوتی ہیں جو اس کیے مقرر کہ وہ خلیفہ کے ساتھ تعاون کرتے اور اس کے ناصرو یادگار بنتے اور اُس کے کام کو دنیا میں پھیلاتے ہیں۔ہماری جماعت ایک روحانی جماعت ہے اور اگر وہ سچی ہے تو پھر یہ بھی سچی بات ہے کہ جو کوئی بھی اس جماعت کے نظام کی اتباع کرے گا اور اس کی قدر کرے گا اور اس کے ساتھ تعاون کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہوگا۔کیونکہ جب ایک ادنی انسان بھی اپنے ساتھ تعاون کر نیوانے کی قدر کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے تو خدا تعالیٰ جو غیر محدود ذرائع رکھنے والا ہے اُس کی نسبت یہ کب اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس کے مقرر کردہ خلیفہ یا اُس کی مقرر کردہ جماعت کے ساتھ تعاون کرنے والوں اور محبت کرنیوالوں اور اخلاص رکھنے والوں کی قدر نہیں کرے گا اور ان کی مدد نہیں کرے گا۔یقیناً جو لوگ اس رستہ کو اختیار کریں گے وہ اپنی روح کے اندرایک تبدیلی پائیں گے اور اپنے آپ کو خلیفہ وقت کا روحانی بیٹا ثابت کرتے ہوئے بعد اتعالیٰ کا اس دنیا میں روحانی فرزند بننے کا فخر حاصل کریں گے اسلام کا خدا محبت کرنے والا سخدا ہے اور وہ فرمانبردار بندوں سے اس سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے جتنا کہ محبت کر نیوالا باپ اپنے بیٹوں سے محبت کرتا ہے۔مگر باپ کی محبت حاصل کرنے کے لئے بھی انسان کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔صلاحیت اور نیک اطوار اور تعاون اور محبت ہی باپ کی طبعی محبت کو ابھار تے I