تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 386 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 386

ہماری سیاسی زندگی کے دامن پر جو سب سے زیادہ تاریک داغ ہے اس پر انگلی رکھ دی گئی ہے۔یہ بات کہ ایک مسلمان کو دو سر امسلمان اسلام کے نام پر قتل کر دیے یہ ایک نزاعی بحث نہیں ہے بلکہ ملاؤں کے مذہب کا ایک مسلمہ ہے۔ایک مسلمان خواہ وہ کتنا ہی دیانتدار اور زندگی میں پاکباز ہوا گر وہ ملا کے معیا یہ اسلام پر پورا نہیں اتر تا تو اس کو فوراً کافر" کا خطاب دے دیا جاتا ہے اور ایسی صورت میں یہ ایک بڑا دینی کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے۔اگر مذہبی جنون کا نظریہ قبول کر نیا جائے تو نواب زادہ لیاقت علی اسی نفسیات کا شکار ہوئے۔جاہل مذہبی جنونی قاتل نے اپنے ہی اسلامی معیار پیر ان کو پرکھا اور اس سے فروتر پایا۔ملا کے مسلمہ مذہبی معیار کے مطابق یہ بات اس امر کا کافی جواز تھا کہ اُن کی جان لے لی جائے۔جو حادثہ وزیر اعظم مرحوم کو پیش آچکا ہے وہ ہر وزیر کو پیش آسکتا ہے بشرطیکہ ام کے جوش کو اس کے خلاف کافی طور پر بھڑکا دیا جائے۔۔۔اس رپورٹ نے اس خطرناک رجحان کی طرف متوجہ کر کے بڑی خدمت سر انجام دی ہے۔۔۔ہمارا اعتقاد ہے کہ رائے عامہ کو اس عظیم معاشرتی خطر ہے کے علاوہ منظم ہونا چاہیے۔مذہب کے نام پر تشد د اسلام میں بہت عام ہے۔چھوٹے چھوٹے اختلافات نے بڑے بڑے فساد ہر پاکئے ہیں اور لوگوں کے سر توڑے ہیں۔ملا کے نز دیک مغربی لباس پہنتا بھی کفر" ہے۔داڑھی مونچھ کا منڈا ہوا ہونا تو کفر کی سب سے بڑی علامت ہے۔علما کو اسلام کا آخری حکم بنا دینا اُس پاکیزہ دین کی توہین ہے جو محبت ، وسعتِ نظر اور ہمد روٹی انسانی کا پیغام لے کر آیا۔علاوہ ازیں یہ پاکستان کی تخریب کا بھی یقینی راستہ ہے۔ان دنوں حالات فی الواقع خوفناک ہوتے جارہے ہیں جسٹس محمد منیر کا انتباہ نہایت بر وقت اور بر محل ہے۔مثلا کا خطرہ بڑھ رہا ہے وہ موجودہ نظام کو الٹ دینے کے لئے باہر نکل آیا ہے اور اس کو بد نام کہ رہا ہے۔اس کا ہتھیار وہی پرانا ور یہ ہے کہ ہر چیز کو غیر اسلامی قرار دے دیا جائے۔کا فر سازی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔انکوائری رپورٹ نے میچ طور پر موجودہ رفتار میں پاکستان کی تخریب کے جراثیم کو دیکھ لیا ہے۔(ترجی) اخبار پاکستان ٹائمز نے کمیشن کی رپورٹ پر درج ذیل ادارتی نوٹ لکھا۔مسٹر لیاقت علی خان کے قتل کے متعلق کمیش نے فوری حالات پر جور وشنی ڈالی ہے اس سے کچھ کم اہم اور قیمتی اس کی وہ شد یا تنقید نہ ہو گی جو ہماری قومی زندگی کے مذہبی جنون کے رجحانات کے بارے میں کی گئی ہے۔پاکستان کے قیام کے وقت ہی سے قومی زندگی کے تمام معقول اور ترقی پسند عناصر