تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 383 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 383

تعزیر کا اختیار رکھتے ہو۔ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! اگر میں اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو آیا مجھے اس کو قتل کرنے کی اجازت ہے ؟ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر تم اسے قتل کرو گے تو اس کے بدلہ میں تمہیں قتل کیا جائے گا۔تم گواہ پیش کرو۔اُس شخص نے کہا یا رسول اللہ اتنا دیوث کون ہو گا کہ وہ اپنی عورت کے پاس غیر مرد دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے۔اسلام نے ایسے شخص کی سزا قتل رکھتی ہے تو کیوں نہ میں اُسنے ماروں برسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تو پکڑے جاؤ گے اُس وقت تک زائی کو رجم کیا جاتا تھا اور وہ صحابی بھی اسے قتل کرنے کے لئے ہی اجازت چاہتے تھے لیکن رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ با وجو اس کے کہ تم نے اپنی عورت کے پاس غیر مرد کو دیکھا لیکن تم قاضی کے پاس جاؤ وہ فیصلہ کر لے گا کہ تم ٹھیک کہتے ہو یا غلط۔اب یہ کتنی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے کسی صورت میں بھی شرع تعزیہ کی جن میں قتل کرنا، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور قید کرنا شامل ہیں کسی فرد کو اجازت نہیں دی۔ہاں بعض سزاؤں کی اجازت دی ہے مثلاً ایک باپ یا استاد بچے کو اس کے کسی قصور پر مار سکتا ہے۔پھر قومی سزاؤں کا قوم کو اختیا رہے، مثلاً کسی قصور پر ہم ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیتے ہیں تو اس کا ہمیں اختیار ہے کیونکہ یہ شرعی تعریر نہیں۔جو شرعی تعزیریں ہیں مثلاً قتل کرنا ، ہاتھ پاؤں کاٹنا ، قید کرنا ، کوڑے لگانا وغیرہ ان کا اختیار حکومت کو ہے اور وہ بھی قضاء کے ذریعہ حکومت عارضی طور پر کسی کو قید کر سکتی ہے لیکن بعد میں اس کا فیصد قضا نہیں کرے گی۔اگر تم اسلام کی اس تعلیم کو ملک میں بھاری کردو تو کوئی قتل ممکن ہی نہیں۔نہ آگ لگائی جاگتی ہے اور نہ کسی کو مارا پیٹا سما سکتا ہے۔اس تعلیم کو جاری کرنے کے بعد ہی ملک میں امن قائم ہوسکتا ہے۔تم پہلے اسلامی ذہنیت پیدا کرو۔یہ نہیں کہ ایک طرف مولوی یہ ہے کہ ملک میں اسلامی تعلیم پھیلاؤ اور دوسری طرف یہ کہے کہ فلاں شخص اسلامی تعلیم کے خلاف چلتا ہے۔اس لئے اسے قتل کہ دو بہم حکومت کو کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا چکے ہیں لیکن اس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی نتیجہ یہ ہوا کہ جو ذہنیت احمدیوں کے خلاف پھیلائی گئی تھی وہ پاکستان کے خلاف پھل گئی۔اور اگر اس ذہنیت کو جلد ہی تبدیل نہ کیا گیا تو صرف احمدیوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ لوگ ان مولویوں کے خلاف بھی جو یہ فتوے دیتے ہیں کا روائی کریں گے۔غرض یہ ذہنیت نہایت خطرناکی ہے اگر اسے جلد روکا نہ گیا تو یہ ملک کے لئے بہت بڑے خطرے کا موجب ہوگی۔اگر مو لوسی حقیقت میں ملک میں اسلامی حکومت