تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 373
وزیر اعظم خان لیاقت علی خالی کو عطا کی ہوئی تھیں اور وہ ان صلاحیتوں کی بدولت ان تمام گھیوں کو باآسانی سیکھا سکتے تھے جو اس نازک وقت میں ہماری اس خدا داد مملکت کو درپیش ہیں۔وہ عظیم قابلیت جس کا مظاہرہ قائد اعظم کی وفات کے بعد امور سلطنت کی انجام دہی میں لیاقت علی خان نے کیا اس کی یاد ہمیشہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں جاگزین رہے گی اور وہ ہمیشہ انتہائی تعظیم اور محبت کے جذبات کے ساتھ اپنے قائد کو یاد کرتے رہیں گے۔ہم بیگم لیاقت علی خاں ، اُن کے بچوں اور حکومت پاکستان سے اس عظیم سانحہ پر اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزیم میم کا پھر اعلان کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کی خدمت اور تعمیرو تحفظ کے سلسلہ میں ہرممکن قربانی کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مصائب اور آزمائشوں کے دور میں ہماری اس مملکت کا محافظ اور کفیل ہو“ ہے حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود کا | حضرت امیر المومنین الصالح الموعود نے صرف تعزیتی تاره خط اور مرکزی جلسہ کے انعقاد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ حادثہ قتل پر بصیرت افروز تبصره حضور نے ۲۶ اکتوبر ۲۶/۶۱۹۵۱- اخاء ۱۳۳۰ متش کو ایک مبسوط خطبہ جمعہ دیا جس میں اس حادثہ قتل کے پس منظر پر خالص دینی نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی اور کیش آمدہ واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے دنیائے اسلام کو موٹا اور پاکستان کے باشندوں کو خصوصاً اسلام کی اس بنیادی اور حقیقی تعلیم کی طرف توجہ دلائی کہ اسلام میں شرعی تعزیر کی اجازت کسی فرد کو نہیں بلکہ اس کا اختیار صرف اور صرف حکومت وقت کو حاصل ہے۔تصور کا یہ خطبہ جمعہ جو اسلام کے نظام حیات کے ایک اہم پہلو کی ترجمانی کا شاہ کار ہے جیسہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضور نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- پچھلے جمعہ کو عین اُس وقت جبکہ لیکن جمعہ میں آنے کی تیاری کر رہا تھا مجھے بخار چڑھنا شروع ہو گیا اور سرور د بھی ہونے لگی جس کی وجہ سے یک مسجد میں نہ آسکار اس کے دو تین دن بعد نہ لہ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے بخار بھی ہو جاتا تھا۔اب مرض میں کمی تو ہے لیکن گلے میں ابھی خواہش باقی ہے اس لئے لیکن زیادہ لمیا خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔گو مرض میں اتنا افاقہ ضرور ہے کہ میں خطبہ جمعہ پڑھ سکتا ہوں۔له الفضل ۱۹ اتحاد ۳۳۰ اش صا :