تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 372
۳۶۶ جماعت احمدیہ کی طر بے گہرے رنج والم کا اظہار اس اندازان کرو تصور کے بر کس جماعت احمدیہ کے امام حضرت مصلح موعود نے درد بھرے دل اور خدمت ملک قوم کے عوم کا اعلان کے ساتھ گورنر جنرل پاکستان فضیلت آب جناب غلام محمد صاحب کو تعزیتی تار دیا جس میں خان لیاقت علی خاں کی اندوہناک وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار فرمایا اور گورنر جنرل پاکستان کو اپنے اور اپنی جماعت کے کامل تعاون اور حکومت اور اہل پاکستان کی ہر ممکن خدمت کا یقین دلایا۔گورنر جنرل پاکستان کے نام تارہ کا متن یہ تھا :- یکی اپنی طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم مسٹر لیاقت علی خاں کی نہایت اندوہناک وفات پر جو ایک نہایت بزدل اور سفاک قاتل کے ہاتھوں واقع ہوئی گھر سے رنج والم کا اظہار کرتا ہوں اور ملک پر اس نازک وقت میں میں اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے آپ سے کامل تعاون اور حکومت و اہل پاکستان کی ہر ممکن خدمت کا یقین دلاتا ہوں سے راس کے علاوہ حضور نے مرحوم وزیر اعظم پاکستان کے صاحبزادہ نواب زادہ ولایت علی خاں کو بھی تعزیت نامہ تحریر فرمایا۔نواب زادہ ولایت علی خاں نے حضور کی خدمت میں اس کے جواب میں خاص طور پر شکریہ کا خط لکھا جو ضمیمہ میں شامل ہے۔یہی نہیں حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر ۱۷ امضاء / اکتوبر کی رات کو اہل ربوہ کا ایک غیر معمولی تعزیتی بیلیسہ بھی حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب در و ایم۔اے سابق مبلغ انگلستان و ناظر امور عامہ و خارجہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں خان لیاقت علی خان کی سیاسی اور تنظیمی صلاحیتوں کو نہایت شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مندرجہ ذیل قرار داد متفقہ طور پر پاس کی گئی :۔ہم جماعتہائے احمدیہ پاکستان کی مرکزی جماعت کے ارکان اپنے محبوب وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کے قتل کے ساتھ عظیم پر دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں۔اس ناگہانی صدمہ کا دکھ اور تعلق اور بھی شدید ہو جاتا ہے جب ایک طرف ان نازک حالات پر نظر پڑتی ہے جن میں ہمارا ملک (پاکستان) گذر رہا ہے اور دوسری طرف ہمارا ذہن اُن خدا داد صلاحیتوں کی طرف جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے الفضل ۱۹ را خاء ۳۳۰ رانش صل ؟ !