تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 371
۳۶۵ حمید نظامی مدیر نوائے وقت نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا :- لیاقت نے پچھلے دو ماہ جنگ کا اتنا زیادہ پر واپیگنڈا کیا تھا اور لوگوں کے جذبات میں اتنا اشتعال پیدا کر دیا تھا کہ خدا کی پناہ۔اس کے بعد لیاقت علی نے فقدان جرات اور فقدان تدبر کا جو ثبوت دیا اس سے عوام میں بڑی بددلی پھیلی ممکن ہے یہ قتل اسی بدولی کا نتیجہ ہو۔ہر سال جو کچھ ہوا بہت برا ہوا۔خدا بجانے اب ملک کا کیا حشر ہوگا ؟ لیاقت علی نے نہ اپوزیشن بننے دی ہے نہ مسلم لیگ میں کوئی مضبوط آدمی رہنے دیا اب کہیں انتشار نہ پھیل جائے " سے پھر لکھا :۔لیاقت علی سے پاکستان کو حقیقی خطرہ تھا۔وہ اس ملک کو ڈکٹیٹر شپ کی طرف لے جا رہے تھے اور لازمی طور پر اس کی تباہی کا موجب بنتے۔لیاقت علی میں ہٹلر کی کوئی خوبی نہ تھی مگر اس کی سب بُرائیاں موجود تھیں۔دس سال بعد ہی مؤرخ لیاقت علی کے کام کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے سکتا ہے۔وہ پاکستان کے لئے ایسے ایسے مسائل پیدا کر گئے ہیں کہ ان کے جانشینوں کے لئے انہیں حل کرنا بڑا مشکل ہوگا سے ے ان صاحب نے اس حادثہ قتل سے تھوڑا عرصہ قبل جبکہ خان لیاقت علی خاں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہند وستان پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور اس نے اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد پر تجھے کہ رکھی ہیں یہ نظریہ قائم کیا کہ میرے خیال میں لیاقت علی نے انتہائی مبالغہ آرائی کی ہے۔لیاقت علی کا اقتدار خطرے میں ہے وہ عوام کی توجہ کو اندرونی اور ملکی مسائل سے بیٹا کر دوسری طرف منتقل کر دینا چاہتا ہے ضرو جب تک ہندوستان کا وزیر اعظم ہے دونوں ملکوں میں جنگ نہیں ہوگی۔گو کشمیر کے بارے میں اُسکا ویہ انتہائی نامعقول ہے مگر وہ پاکستان سے جنگ کبھی پسند نہیں کرے گا البتہ پاکستان کشمیر کے حصول کے لئے سنگ شروع کر سکتا ہے مگر لیاقت علی بھی کشمیر کے لئے جنگ کبھی نہیں کرے گا وہ صرف سٹنٹ سے کام لے گا۔نشان منزل حمید نظامی مدیر نوائے وقت کے خطوط کا مجموعہ " پر نٹر شعیب نظامی قندیل پریس لاہور روبها طبع اول ۱۲ فروری ۲۶۱۹۷۰ ه " نشان منزل" ص ۲۳ و ۳ه نشان منزل कल के