تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 370
۳۶۴ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔نواب زادہ لیاقت علی خاں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان کی وزارت عظمی کے منصب کا بار اُٹھائے ہوئے تھے ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۱ء (مطابق ۱۶ را خاء ۳۳۰ اہش کو کمپنی بارغ راولپنڈی کے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ابھی آپ برادران اسلام کے دو نہایت پیارے لفظ ہی کہ پائے تھے کہ ہزارہ سے آنے والے ایک بدبخت شخص سید اکبر نے آپ پر گولی چلا دی قائد ملت ڈائس پر گر پڑے اور تھوڑی دیر بعد زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہو گئے۔نواب زادہ لیاقت علی خاں ایک عظیم قومی لیڈر تھے جنہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ۱۹۴۶ء کی عبوری حکومت میں قائد اعظم کے نائب ہونے کی حیثیت سے اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے بھی نمایاں سیاسی خدمات انجام دی تفصیلی تاہم با وجود اپنی ران خدمات کے وہ بھی عمر بھر قائد اعظم کی طرح جماعت اسلامی کے سیاسی لیڈروں اور اخباروں کے تنقیدی نشتروں کا ہمیشہ نشانہ بنے رہے چنانچہ اس کے بانی و امیر مودودی صاحب نے ایک سال قبل اُن پر دورہ امریکہ کے دوران قوم کا ۲۵ لاکھ روپیہ خرچ کرنے کا الزام بھی لگایا جس کی خان لیاقت علی خاں نے کراچی کے جلسہ عام میں پر زور تردید کی اور کہا :- اس الزام میں پانچ فیصدی بھی صداقت نہیں۔۔۔ہم علماء کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر علماء ہی جھوٹ پر اتر آئیں تو مت کا نخدا حافظ یا ملے ایک اور موقع پر ان کو واشگات لفظوں میں کہنا پڑا :- به مولانا مودودی انتشار پھیلاتے ہیں۔وہ پاکستان کے امیر المومنین بننا چاہتے ہیں یہ سکے خان لیاقت علی خاں کی دردناک موت سے مچھ ایک قومی المیہ تھی جس پر سوائے افسوسناک طرز عمل ملک کے انتشار پسند عناصر کے کوئی خوش نہ ہوسکتا تھا مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے بعض ممتاز سیاسی لیڈروں نے اس موقع پر افسوسناک ذہنیت کا ثبوت دیا۔مثلاً جناب که امروزه کار اگست ۱۹۵۰ (بحوالہ جماعت اسلامی کا رخ کردار صا از چوہدری طبیب احمد صاحب مطبوعہ پاکستان ٹائمز پریس لاہور۔مارچ ۱۹۶۳ء) سے مولانا مودودی کی نظر بندی کیوں، ص۲۲ ناشر شعبه نشر و اشاعت جماعت اسلامی پاکستان به