تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 347 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 347

۳۴۱ آپ کو وہابی مشہور کر دیا اور بعض آپ کی تائید میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کی خدمت میں تلاش حق کے لئے آنے لگے۔4 مئی کو آپ نے کا نڈی مسلم بینگ بین ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک جلسہ کو خطاب کیا جس میں کھلے اور واضح لفظوں میں جماعت احمدیہ کے مخصوص علم کلام خصوصا وفات مسیح اور صداقت سیح موعود کے دلائل پر بڑی شرح وبسط سے روشنی ڈالی اور کانڈی کے باشندوں پر حجت تمام کر دی ہے اس لیکچر کی اگرچہ ملاؤں نے مخالفت کی اور ہر طرف ایک شور بپا کر دیا مگر حق کے طالب حضرت مہدی موعود کے دعوئے اور حالات کی تفصیل معلوم کرنے کے لئے ہوٹل میں آپ کے پاس آتے رہے اور آپ انہیں دینی ادن تک پورے نہ ور شور سے پیغام حق پہنچانے کے بعد واپس کولمبو میں آگئے اور کمبلوں میں احمدیت کا بیج بونے کے بعد اگلے ماہ مارشمس روانہ ہو گئے۔مشکلات کے باوجود جماعت احمدیہ حضرت صوفی غلام محمد صاحباب کے بعد ۱۹۱۵ء میں ہی جماعت احمدیہ سیلون مشکلات میں گھر گئی مسیلون کی حکومت سیلون کی مخلصانہ خدمات نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ اس ملک میں احمدی مبلغین کو یہ کہ کو داخلہ کی اجازت نہ دی جائے گی یہ ان حالات کے باوجود سیلون کے مخلص احمدیوں نے، اشاعت احمدیت کا اخبار سیلون انڈی پینڈنٹ نے ۱۳ مئی ۱۹۱۵ء کے پرچہ میں اس کا میاب لیکچر کی بایں الفاظ رشائع کی :- " ایک بہت دلچسپ اور پر معلومات لیکچر اسلام کے متعلق مولوی غلام محمد بی۔اے نے گانڈ پر ہلم ینگ بین ایسوسی ایشن کے ہال میں دیا مسٹر این ڈی ایمیٹ صدر جلسہ تھے انہوں نے لیکچرار کا حان دین سے تعارف کرایا اور فاصل لیکچرار نے اسلام کی پاکیزگی کو قرآن کریم اور احادیث نبوی کے حوالجات سے ثابت کیا اور بتایا کہ وہ تمام باطل خیالات جو مسلمانوں کے اندرباہر سے آگئے ہیں نکال دئے جائیں اور اسلام کو اصل پاکیزگی کے ساتھ اختیار کیا جائے۔اس لیکر کو نہایت قابلیت کے ساتھ مسٹر ایس ٹی سابق مدار متاع کا ٹھی نے تامل زبان میں ترجمہ کر کے حاضرین کو شنا دیا۔خاتمہ لیکچر پرمسٹر اے ایم اے عزیز می ایسوسی ایشن نے لیکچرار کیلئے شکریہ کا وٹ تجویز کیا اور آئی ایم۔یوسف آنریری سیکرٹر نے تائید کرتے ہوئے مریم کا بھی یہ ادا کیا یہ سر سی پیک منٹارا ( CH MAN TARA) (احمدی) آنریری سیکرٹڈی اور سینٹ الیشور یس کلب کلیو آئی لینے کا انکی تشریف آوری او اباد کیلئے شکریہ ادا کیا گیا مسٹر لیں۔ایم۔احسان نے ماضرین کی تشریف آوری کا تامل میں شکریہ ادا کیا صاحب صدر طیبہ کیلئے شکریہ کا وٹ پاس کرنے کے بعد علینہ خیر و خوبی برخاست ہوا یہ ترجمہ (بحوالہ افضل ۳ بر مئی ۱۹۱۵ ء من له الفضل