تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 341 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 341

۳۳۵ تو تمہاری مائیں آپ ہی آپ تمہاری نقل کرنے پر مجبور ہوں گی ہم نے دیکھا ہے کہ لڑکی پرائمری پاس ہوتی ہے تو جاہل، مائیں اپنی لڑکی کے آگے پیچھے پھرتی ہیں اور کہتی ہیں ہماری یہ بیٹی پرائمری پاس ہے بڑی عقل مند اور ہوشیار ہے۔اگر مائیں اپنی پرائمری پاس لڑکیوں کی بات رو نہیں کر سکتیں تو تم ہی۔اسے ہو گی تمہاری بات وہ کیوں ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گی۔یہ کام جوئیں نے بتایا ہے اسے معمولی نہ مجھ یہی وہ چیز ہے میں نے ہمارے ملک کی عورت کو بریکا بنا دیا ہے۔دوسری قوموں نے تو اس مسئلہ کو حل کر لیا اور چھ سات گھنٹے بچالئے لیکن تمہیں کھانے پکانے کے دھندوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔اگر ہم بھی چھ سات گھنٹے بچا لو تو یقین تم آن اقوام سے بہت زیادہ ترقی کر سکتی ہو کیونکہ اگر وہ چھ گھنٹے بچاتی ہیں تو دو گھنٹے قومی کاموں میں صرف کرتی ہیں اور چار گھنٹے پارچ گانے میں صرف کر تی ہیں لیکن تم اپنا سارا وقت قومی اور مذہبی کاموں میں صرف کروگی اس لئے یورپ کی عورت کے مقابلے میں تمہیں اپنے کا مواد کے لئے تین گنا وقت مل جائے گا۔اور جب وہ چھ گھنٹوں میں سے چار گھنٹے ناپے گانے میں صرف کرے گی اور تمہارا تمام وقت خالص دینی کاموں میں صرف ہو گا اور اس طرح تم ان سے تین گنا کام کرو گی تو تمہاری سنتی یقینی ہے کیونکہ وقت کے لحاظ سے یورپ کی تین تین عورتوں کے مقابلے میں تمہاری ایک، ایک عورت ہو گی۔اس وقت تمہاری سو عورت بھی یورپ کی ایک عورت کے قابل میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ ہمارا علم بھی کم ہے اور تمہارے پاس اپنے قومی کاموں کے لئے بھی وقت نہیں بچتا لیکن جب تم علم حاصل کر لوگی تو قومی کاموں کے لئے وقت بھی ان سے زیادہ صرف کروگی تو تمہاری ایک عورت کے مقابلہ میں یورپ کی سو عورت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھے گی۔جب تک یورپ کا ماحول ایسا ہے اور اس کا طریق عمل ایسا ہے کہ اس کی ایک عورت تمہاری سو عورت کے برابر ہو گی اس کا جیتنا یقینی ہے۔لیکن جب تم اپنے آپ کو ایسی بنا لوگی کہ تمہاری ایک عورت ان کی سو عورت کے برابر ہو گی تو پھر تمہارا جیتنا یقینی ہے۔ران ریمارکس اور نصیحتوں کے ساتھ لیکن اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوا کائی کا افتتاح کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے زنانہ کو الجی کی اس چھوٹی سی بنیاد کو اپنی عظیم الشان برکتوں سے نواز سے اور یہ چھوٹا سا ادارہ دنیا کے تمام علمی اداروں پر چھا جائے یا اسے له الفضل واروفا ه / جولائی ۱۹۵۷ء من تا مث+