تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 339 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 339

۳۳۳ کوئی وعدہ کیا ہوا ہوتا ہے اور اُس پر پانچ سال بھی گزر چکے ہوں تو وہ ان کو نہیں بھولتا۔اس مشکال سے ان کے کیریکٹر کا پتہ لگتا ہے کہ وقت پر سونا ، وقت پر سکول جانا ، وقت پر کپڑے بدلنا اور کھانے کے برتن و ھونا یہ سب بچوں کو سکھایا جاتا ہے اور یہ باتیں ان کے فرائض میں شامل کی جاتی ہیں۔اس رنگ میں انہوں نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ ان کا بہت سا وقت بچ جاتا ہے۔پھر بچوں کے پالنے کا کام ایسا ہے کہ جس میں بہت کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔یورپ میں تو عورتیں بچے کو پنگھوڑے میں ڈالتی ہیں ، چوسنی تیار کر کے اس کے پاس رکھ دیتی ہیں اور مکان کو تالا لگا دفتر میں چلی جاتی ہیں۔جب بچے کو بھوک لگتی ہے وہ خود چوسنی اُٹھا کر منہ سے لگا لیتا ہے لیکن ہمارے ہاں اگر ماں دو منٹ کے لئے بھی بچے سے الگ ہو جائے تو وہ اتنا شور مچاتا ہے کہ آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ماں بچے کو الگ نہیں کرتی اسے ہر وقت اپنے ساتھ چھٹائے پھرتی ہے۔بچہ پیدا ہوا اور اسے گودمیں ڈال لیا اور پھر تین چار سال تک اسے گود میں اُٹھائے پھرتی ہیں۔بلکہ ہمارے ملک میں تو پانچ پانچ سال تک لاڈلے بچوں کو اُٹھائے پھرتی ہیں۔یہ سارے رواج اس قابل ہیں کہ ان کو بدلا جائے۔جب تم ہمت کر کے الی رسوم کو بد لو گی تو آہستہ آہستہ باقی عورتوں میں بھی تمہارے پیچھے چلنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔یکس نے بتایا ہے کہ سب سے پہلے روٹی پکانے کے طریق میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔عربوں میں بھی بازار سے روٹی منگوانے کا طریق ہے مگر وہاں تنور کی تخمیری روٹی ہوتی ہے انگریزی روٹی کا رواج نہیں جتنے ملکوں میں بازار سے روٹی منگوانے کا طریق رائج ہے ان سب میں خمیری روٹی کھائی سجاتی ہے۔خمیری روٹی ہمیشہ تازہ ہی پکا کر کھانی پڑتی ہے۔بہر حال بغیر اس کے کہ روٹی کا سوال حل ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں۔اور بغیر اس کے کہ بچہ پالنے کے طریق میں تبدیلی ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں۔جب تک بچہ گود میں رہے گا یاماں بیکار رہنے پر مجبور ہوگی یا بیٹی مجبور رہے گی۔کام کے لئے فراغت اسے اسی وقت ہو سکتی ہے جب بچہ کو پیدا ہوتے ہی پنگھوڑے میں ڈال دیا جائے اور پھر وقت پر اسے دودھ پلا دیا جائے۔گود میں اسے نہ اٹھایا جائے۔مغرض جب تک یہ سوال حل نہیں ہوتا ماں کی زندگی بیکار رہے گی، اور جب تک کھانے کا سوال حل نہیں ہوتا عورت کی زندگی بیکار رہے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روزانہ چار وقت کے کھانے کی بجائے صرف دو وقت کا کھانا رکھ لیا جائے اور ناشتہ کا کوئی سادہ دستور نکالا جائے اور کھانے ایسے تیار کئے جائیں جو کئی کئی وقت کام آسکیں اور روٹی باز