تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 334
۳۲۸ کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کر یں۔لیکن دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت بھی دنیا سے الگ نہیں ہوسکتی اور دنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔اسلام نام ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا۔اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دنیوی چیز ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی محبت ایک دینی چیز ہے۔پس جب اسلام دونوں چیزوں کا نام ہو اور جب وہ لڑ کی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کا کام کرنے اور وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرنے دونوں اپنے آپ کو مسلمان کھتی ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ جو لڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دنیا کا کام کرے اُسے کیا معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بھی دین کا حصہ ہے اور جولٹ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دین کا کام کرے اسے کیا معلوم ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے پس دونوں کا مقصد مشترک ہو گیا جو دینی خدمت کی طرف جانے والی نہیں انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حقہ ہے۔دین کے معنے صرف سبحان اللہ سبحان اللہ کرنے کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اور اُن کے دُکھ درد کو دور کرنے میں حصہ لینے کے بھی ہیں۔اور جولڑ کیاں دنیا کا کام کرنا چاہتی ہیں انہیں یا درکھنا چاہیئے کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کی محبت پر بھی زور دیا ہے پس انہیں دنیوی کاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی محبت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اس کی محبت اپنے دلوں میں زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے پہلے جانا چاہئیے۔اور چونکہ دونوں قسم کی لڑکیاں در حقیقت ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھتی ہیں اس لئے وہ جو اختلاف تمہیں اپنے اندر نظر آسکتا تھا وہ نہ رہا اور تم سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا ہو گیا۔پس یہ مقصد ہے جو تمہارے سامنے ہوگا اور اس مقصد کے لئے تمہیں دینی روح بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیئے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے تا کہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے تم اس کا لج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی ہو۔دوسرے کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھلا کر دنیوی کا موں میں ہی منہمک ہو جائیں مگر چونکہ یہ کالج احمدیہ کالج ہے اس لئے تمہارا فرض ہو گا کہ تم دونوں دامنوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو اگر ایک دامن بھی تمہارے ہاتھ سے چھٹ جاتا ہے تو تم اس مقصد کو پورا نہیں کرسکتیں جو تمہارے سامنے رکھا گیا ہے