تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 333 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 333

۳۲۷ کر نوگی کہ وہ ہے کہاں ؟ اور جب تم تلاش کرو گی تو وہ تمہیں مل جائے گا۔قرآن کریم خود بتاتا ہے کڑہ ایک بند خزانہ ہے اس کے الفاظ ہر ایک کے لئے کھلتے ہیں۔اس کی سورتیں ہر ایک کے لئے کھلی ہیں مگر اس کے لئے گھلی ہیں جو پہلے ایمان لانا ہے۔وہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَرُونَ د وہ لوگ جو ہماری برکت اور رحمت سے ممنوج کئے جاتے ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں کیا کچھ بیان ہوا ہے۔باقی عربی کتابیں عربی بجانے سے کبھی جاسکتی ہیں لیکن قرآن کریم ایمان سے سمجھا جا سکتا ہے اگر تمہیں کامل ایمان حاصل ہو اور پھر تم اس کو دیکھو تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی کسی مجلس میں دنیا کی کسی یونیورسٹی کی ڈگری یافتہ عورت سے تم نیچی نہیں ہو سکتیں وہ تمہیں اسی طرح دیکھیں گی جس طرح شاگرد اپنے اساتذہ اور معلمین کو دیکھتے ہیں کیونکہ تمہارے پاس وہ چیز ہوگی بنو اُن کے پاس نہیں ہوگی۔مگر مصیبت یہ ہے کہ احمدی نوجوان بھی ابھی اس بات پر تو ایمان لے آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنا مامور بھیجا۔وہ اس بات پر بھی ایمان لے آیا ہے کہ احمدیت سچی ہے مگر ابھی اس بات پر اسے پختہ ایمان حاصل نہیں ہوا کہ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے اگر یہ بات حاصل ہو جاتی تو آج ہماری جماعت کہیں سے کہیں پہنچ جاتی۔اگر تمہاری جیب میں روپیہ موجود ہو تو کیا ضرورت ہے تم صندوق کھوئے جاتی ہو تم اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتی ہو اور روپیہ نکال لیتی ہو۔اگر واقعہ میں ایک احمدی مرد اور عورت کے دل میں یہ ایمان ہو کہ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے تو وہ کسی اور طرف جائے گا کیوں ؟ وہ قرآن پر غور کرے گا اور اسے وہ کچھ ملے گا جو اسے دوسری کتابوں سے مل سکتا ہی نہیں تب اُس کی زندگی دوسروں سے زیادہ اعلیٰ ہوگی اور وہ ان میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہو گا۔بے شک بعض مجبوریوں کی وجہ سے اُسے بھی یونیورسٹیوں میں پڑھنا پڑے گا مگر اس کو آخری ڈگری دینے والا کوئی چانسلر نہیں ہوگا، کوئی گورنر نہیں ہو گا، کوئی وزیر نہیں ہو گا بلکہ اُسے آخری ڈگری دینے والا خدا ہو گا اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ڈگری کے مقابلہ میں انسانوں کی ڈگری کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔نوم یہ کالج میں نے اس لئے کھولا ہے کہ اب دین اور دنیا کی تعلیم چونکہ مشترک ہو سکتی ہے اسلئے اسے مشترک کر دیا جائے اس کالج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہو سکتی ہیں کچھ تو وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیوی کام کریں اور کچھ وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا له الواقعة : 69