تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 324 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 324

اور دیکھو کہ اب کتنے مسلمان ہو چکے ہیں۔مردم شماری کی گئی ، مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی تعداد سات سو نکلی۔تم جانتی ہو کہ ربوہ کی آبادی اِس وقت اڑھائی ہزار کے قریب ہے گویا تمہاری ربوہ کی آبادی کا با حقہ تھے۔اور یہ وہ مردم شماری تھی جو ساری دنیا کے مسلمانوں کی تھی کیونکہ اس وقت مدینہ سے باہر مسلمان بہت تھوڑے تھے سوائے حبشہ کے کہ وہاں کوئی پچاس کے قریب مسلمان ہوں گے یا مکہ میں کچھ سلمان تھے جو ڈر کے مارے اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتے تھے اور کھلے بندوں اسلام میں شامل نہیں تھے۔غرض مردم شماری کی گئی اور سات سو کی آبادی نکلی۔وہ صحابہ ضمین کے سپرد یہ کام تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ کلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مسلمانوں کی آبادی سات سو نکلی ہے۔پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے مردم شماری کا حکم کیوں دیا تھا ؟ کیا آپ کو یہ خیال آیا کہ سلمان تھوڑے ہیں ؟ یا رسول اللہ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب ہمیں دنیا سے کون مٹا سکتا ہے ؟ آج کیا جاتا ہے کہ مسلمان ساٹھ کروڑ ہیں لیکن ان کا ساٹھ کروڑ کا دل اتنا مضبوط نہیں جتنا ان سات سو کا دل مضبوط تھا۔آخر یہ تفاوت جو دلوں کے اند رہے تمہیں اس کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے بغیر تاریخ کے مطالعہ کے۔ایک ایک مسلمان نکلتا تھا اور دنیا کی طاقتیں اس کے سامنے جھک جاتی تھیں۔وہ نقال نہیں تھا بلکہ خود اپنی ذات میں اپنے آپ کو آدم سمجھتا تھا۔وہ یقین رکھا تھا کہ دنیا میری قتل کرے گی میرا کام نہیں کہ میں اس کی نقل کروں۔تم اگر تاریخ پڑھو توتمہیں پتہ لگے گا کہ آج تم ہر بات میں یورپ کی نقل کر رہی ہو تم العض دفعہ کہ دیتی ہو خلال تصویر میں میکن نے ایسے بال دیکھے تھے اُن جب تک میں بھی ایسے بال نہ بنالوں مجھے چکن نہیں آئے گا، خلال پوڈر نکلا ہے جب تک میں اسے خرید نہ لوں مجھے قرار نہیں آئے گا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ تم سمجھی ہو کہ تمہارا دشمن بڑا ہے اور تم چھوٹی ہو۔اگر تم بڑی ہو تو اس کا کام ہے کہ وہ تمہاری نقل کرے اور اگر وہ بڑا ہے تو پھر تمہارا کام ہے کہ تم اس کی نقل کرو۔حضرت عمر کے زمانہ میں اسلامی لشکر ایران کے ساتھ ٹکڑے رہا تھا کہ بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ عرب ایک شریب ملک کے رہنے والے بھو کے نگے لوگ ہیں اگر ان کو انعام کے طور پر کچھ روپیہ دے دیا جائے تو ممکن ہے یہ لوگ واپس پہلے بائیں اور لڑائی کا خیال ترک کر دیں۔چنانچہ اس نے مسلمانوں کے کمانڈر انچیت کو کہلا بھیجا کہ اپنے چند آدمی میرے پاس بھجوا دیئے جائیں میں ان سے گفت گو کرنا چاہتا ہوں۔جب وہ ملنے کے لئے آئے تو اُس وقت بادشاہ بھی اپنے دارالخلافہ سے نکل کر کچھ دور آگے آیا ہوا تھا اور