تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 321
۳۱۵ تلاوت کے بعد حضور پر نور کے تشہد و تعوذ اور سورة حضرت امیر المومنین کا بصیرت افروز خطاب فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔زمانہ کے حالات بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔یہ ایک عام قانون ہے جو دنیا میں جاری ہے۔دریا چلتے ہیں اور پہاڑوں اور میدانوں کے نشیب و فرازہ کی وجہ سے ان کے بعض حصوں پر دباؤ پڑتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کچھ دور جا کر دریا کا رخ بدل بہاتا ہے۔بعض دفعہ دس دس پندرہ پندرہ نہیں ملیں ، تیس تیس میل تک دریا بدلتے چلے جاتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ زمانہ بدل جاتا ہے۔یہ دونوں قسم کے نظارے ہمیں دنیا میں نظر آتے ہیں کبھی زمانہ کے بدلنے سے انسان بدلتے ہیں اور کبھی انسانوں کے بدلنے سے زمانہ بدلتا ہے اذین کمزور ہوتا ہے تو زمانہ کے بدلنے سے وہ بدل جاتا ہے اور جب طاقتور ہوتا ہے تو اس کے بدلنے سے زمانہ بدل جاتا ہے۔کمزور قومیں اپنی حاصل شدہ عظمت اور طاقت کو زمانہ کے حالات کے مطابق بدلتی چلی جاتی ہیں۔وہ اپنے ہمسایوں سے بد رسوم کو لیتی ہیں ، اپنے ہمسایوں سے بداخلاق کو لیتی ہیں ، اپنے ہمسایوں سے سستی اور جہالت کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے جھوٹ اور فریب کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے ظلم اور تعدی کولیتی ہیں، اور وہی قوم جو کسی وقت آسمان پر چاند اور ستاروں کی طرح چمک رہی ہوتی ہے نہایت ذلیل اور حقیر ہو کر رہ جاتی ہے۔تم اپنے ہی اسلاف کو دیکھو اگر تمہیں اپنے بناؤ اور سنگھار سے فرصت ہو کہ تمہارے اسلاف کیا تھے اور اب تم کیا ہو ؟ مجھے بتایا گیا ہے کہ کالج کی طالبات نے جب مضمونوں کا انتخاب کیا تو ان میں سے اکثر نے تاریخ سے بچنے کی کوشش کی۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ہم کسی بچہ کو کہیں کہ آور ہم تمہیں تمہارے ماں باپ کا نام بتائیں اور وہ بھاگے۔تاریخ کیا ہے، تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارا باپ کون تھا ؟ تمہا را وا دا کون تھا ؟ تمہاری ماں کون تھی ؟ تمہاری نانی کون تھی ؟ تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارے آباء واجداد کیا تھے ؟ اور اب تم کیا ہو ؟ تاریخ سے کسی شخص کا بھا گنا یا اس مضمون کو بو جھیل سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے آبا واجد کی بات مسلنے کے لئے تیار نہ ہو۔حالانکہ اگر دنیوی لحاظ سے کوئی مضمون ایسا ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں لڑنا چاہیے تو وہ تاریخ ہی ہے۔تاریخ سے بھاگنے کے معنے ہوتے ہیں طبیعت میں مردہ دلی ہے۔جیسے کسی کمزور آدمی کو زخم لگ جاتا ہے تو وہ کہلتا ہے مجھے نہ کھاؤ میں نہیں دیکھتا میرا دل ڈرتا ہے۔تاریخ