تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 307 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 307

٣٠١ لفظ مسلمہ خود تشریح طلب ہے اگر مسلمہ سے مراد قرآن کریم اور حدیث کی رو سے مسلمہ لیا جائے تو اس کے لئے کسی قید کے بڑھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن و سنت کا حکم سب کے لئے ماننا ضروری ہے اور اس کے خلاف پھلنا نا جائز ہے۔اور اگر مسلمہ سے مراد حنفی ، شافعی، مبلی ، مالکی وغیرہ فرقے لئے جائیں تو ایسی قید کسی طرح جائز نہیں سمجھی جا سکتی۔قرآن مجید میں یہ کہ ان بیان ہوا ہے کہ فلاں صدی تک کے لوگوں کو امور شرعیہ میں استنباط کرنے کا حق ہوگا اور فلائی صدی کے بعد کسی کو یہ حق نہیں ہو گا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو اجتہاد کرنے کا حق تھا تو یہ حق ہمیشہ کے لئے قائم ہے۔کیسی خاص فرقہ کے ساتھ اس حق کو مقید نہیں کیا جا سکتا ہیں اگر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایک مجتہد کی جماعت کو بھی مسلمہ جماعت قرار دیا جائے تو پھر لازما ہرمسلمان کہلانے والی جماعت کو مسلمہ جماعت قرار دینا پڑے گا۔اور دوسری طرف اگر کسی جماعت کو یا اس کے عقائد کو غیر مسلمہ قرار دیا گیا تو پھر رسول اللہ لی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی ساس کو بھی مسلمہ قرار دینا جائز نہیں ہوگا۔ا تحریک احمدیت کے قیام اور حضرت محمد کی موعود محبت الہی کے موضوع پر پر معارف خطبات کی بہشت کا مقصد حمید محبت الہی ہے جیساکہ حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں :۔وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں پائے پھر فرماتے ہیں :۔میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرا کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولتمند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔وہ ہیرا کیا ہے ؟ سچاہندا۔اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہنچانا اور نچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اُس سے تعلق پیدا کرنا اور پیچی برکات، اُس سے پانا یہ ہے ٹے لیکچر لاہور ص سے الجین را