تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 19 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 19

19 حضرت امام ہمام کا ایمان افروز خطاب ادعا سے فارغ ہونے کے بعد ا کر حویلی نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کے بعد فرمایا :- نبر پر رونق ۲۵ " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام تھا کہ آپ کے ہتم اور غم نے اسمعیل کا درخت اگایا۔اس میں پیش گوئی تھی کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا اُن کی رُوح کے لئے نہایت تکلیف دہ ہو گا ایسا تکلیف دہ کہ آپ کی روح تڑپ تڑپ کر اور زاری کو کر کے خدا تعالیٰ کے حضور مجھے گی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اسمعیلی درخت اُگائے گا۔ہمعیل کا درخت کیا ہے ؟ اسمعیل کا درخت خانہ کعبہ ہے۔اس الہام میں پیش گوئی تھی کہ ایک زمانہ میں احمدیوں کو قادیان سے ایک حد تک ہاتھ دھونا پڑے گا اور ان کے ہاتھ دھونے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک نئے مقدس مقام کی بنیاد رکھے گا ہم کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی مقام کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور چونکہ یہ ایک مرکزی مقام ہے اور ساری دنیا کے لوگوں سے اس کا تعلق ہے، اس لئے ساری دنیا کے لوگوں کو ہمیں اس کی تعمیر میں حصہ دینا چاہئیے پیس لیں اس موقعہ پر تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی توفیق کے مطابق اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیں۔میرا خیال ہے کہ میں کیے ہیں ہزار روپیہ بلکہ میں پینتیس ہزار تک اس پر خرچ ہو جائے گا۔ربوہ کی جماعت کو چا ہیے تھا کہ وہ اس میں سپیل کرتی مگر غالبا یہاں کے کارکنوں کا ذہن اِدھر گیا نہیں۔لائلپور کی جماعت کا ذہن ادھر گیا اور وہ اپنا چند آج اپنے ساتھ لائی ہے جو ۷۳۳ روپیہ آٹھ آنہ ہے۔آخریہ مسجد تعمیر ہوگی یہ مرکزی مسجد ہوگی اس وجہ سے اس میں ساری ہی جماعت کا حصہ بھی چاہیئے۔ہماری جماعت تو مخلصین کی جماعت ہے۔مومنین کی جماعت ہے۔عارفین کی جماعت ہے۔مکہ کے لوگ جن میں شرک پایا جاتا تھا اور جو دین سے دور چلے گئے تھے ان میں بھی خانہ کعبہ کی تعمیر میں حصہ لینے کا اتنا جذبہ پایا جاتا تھا کہ ایک دفعہ جب کہ خانہ کعبہ کی عمارت کمزور ہو گئی انہوں نے ارادہ کیا کہ چندہ کر کے وہ اس کی تعمیر نئے سرے سے کریں تعمیر کرتے وقت جب وہ اس مقام پر پہنچے جہاں حجر اسود رکھا جانا تھا تو سارے قبائل میں له يُخْرِجُ هَمَّهُ وَغَمُهُ دَوحَةُ اسمعیل رند که ۱۶ فروری است والحکم از فروری شما در جام وه