تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 20 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 20

لڑائی شروع ہو گئی کچھ کہتے تھے کہ اسے ہم اٹھا کر رکھیں گے۔یہ لڑائی اتنی بڑھی کہ نوجوانوں نے تلواریں کھنچے ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مخالف کے خون کی ندیاں بہا دیں گے مگر اپنے سوا کسی اور کو یہ شرف حاصل نہیں ہونے دیں گے۔آخر قوم کے بڈھوں نے کہا کہ یہ صورت تو خطر ناک ہے چلویہ فیصلہ کر لو کہ جو شخص اس وقت کے بعد سب سے پہلے ادھر آئے اُس کے ہاتھ سے ہم بنیا درکھوائیں اور اُس کے فیصلہ کو قبول کرلیں اور سب نے اس سے اتفاق کرلیا۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خانہ کعبہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آنے والا تھا اس لئے اس فیصلہ کے بعد جو شخص سب سے پہلے نمودار ہوا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔آپ کو دیکھ کر سب کے سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ ہم بنیاد کا معاملہ آپ کے ہی سپرو کرتے ہیں۔آپ نے ایک چادر لی اور حجر اسود کو اپنے ہاتھ سے اُٹھا کر اس پر رکھ دیا اور پھر ہر قبیلہ کے سردار کو کہا کہ اس چادر کا ایک ایک کو نہ پکڑ لو چنانچہ تمام قبائل کے سرداروں نے اُس چادر کا ایک ایک کو نہ پکڑ لیا اور اُسے اُٹھا کر اُس مقام پر لے گئے جہاں اُسے رکھنا تھا۔جب وہاں پہنچ گئے تو آپ نے پھر اپنے ہاتھوں سے حجر اسود کو اٹھایا اور اس کے اصل مقام پر اسے رکھ دیا۔اس طرح وہ سارے کے سارے خوش ہو گئے مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی بھی کروادی کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی آئندہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہوگی۔خانہ کعبہ کی تعمیر کے ثواب میں شامل ہونے کے لئے اگر عرب کے مشرکین اتنا اصرار کرتے تھے تو مومنین کو تو بہر حال ان سے زیادہ ایمانی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔جہاں بھی قومی طور پرکسی کام کا سوال ہو زندہ قوم کے زندہ افراد اصرار کیا کرتے ہیں کہ ہمیں اس میں حصہ دیا جائے نہیں ربوہ کے مخلصین کو چاہیئے تھا کہ چاہے وہ غریب تھے اپنے ایمان کے لحاظ سے وہ اس میں دوسروں سے پہلے حصہ لیتے۔بہر حال جیسا کہ میں پہلے کہ چکا ہوں باہر کی جماعتوں میں سے سب سے پہلے لائلپور کی جماعت نے ۷۳۳ روپے آٹھ آنے اس برین کے لئے پیش کئے ہیں اسکے علاوہ کچھ وعدے اور کچھ نقد روپیر بھی اکٹھا ہوا ہے۔یکی نے اپنی طرف سے ۲۱ روپے نقد دیتے ہیں اور پانچ سو روپلے کا وعدہ کیا ہے۔اس کے علاوہ ہمارے خاندان کے افراد کے چندے کی فہرست یہ ہے:۔صاحبزادہ مرزا منو را احمد صاحب مع بیوی بچے ساله طبری، ابن ہشام ، زرقانی، تاریخ خمیس به ۲۱ روپیے