تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 302
۲۹۶ اور ملک عمر علی صاحب نائب وکیل التبشیر اس کے رکن۔احمدی وفد کو مؤتمر کے ہر اجلاس کی کارروائی میں شامل ہونے کا موقع ملا۔نمائندگان وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، ان کی تقاریر سنیں اور اُن تقاریب میں شریک ہوا ہو مؤتمر کے نمائندوں کو سرکاری طور پر دی گئیں۔جماعت احمدیہ کراچی نے اس موقع پر حضرت مصلح موعود کی ۱۳۲۹ 19۵ء کی کراچی پریس کا نفرنس کو عربی اور انگریزی زبانوں میں شائع کیا جو بیرونی ممالک کے مندوبین میں سے ایک معتد بہ حصہ کو دیا گیا تاوہ اپنے ملکوں میں واپسی جائیں تو حضرت امام جماعت احمدی کے قیمتی افکار و خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی تدابیر اختیار کریں۔امیر و فد حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنے ایک مفصل بیان میں مؤتمر عالیم اسلامی کو عالم اسلامی میں وحدت اور اتحاد پیدا کرنے کی مبارک تحریک قرار دیا اور اپنے ایک مفصل بیان میں اس کی سرگرمیوں کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے بتایا کہ :- " تمام عرب مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام باہمی فرقہ بندیوں کی حدود سے بالاتر رہ کر اس موتمر عالم اسلامی کی بنیاد اُٹھانی چاہیئے ورنہ یہ سانس لیتے ہیں موت کا منہ دیکھے گی۔اقوام عالم کے مشتر کہ اسٹیج سے یہ آواز ایک احمدی کے دل میں کسی قسم کی خوشی پیدا کر سکتی ہے۔اس کا اندازہ اس مسلمہ حقیقت سے کیا جا سکتا ہے کہ عرصہ۔۔۔سے ہماری جماعت کے اسٹیج سے یہ آواز بار بار بلند کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی مشترکہ اعراض کی خاطر ایک سٹیج پر جمع ہوکر روح تعاون کے ساتھ اپنی عالمگیر مشکلات کا اصل سوچنا اور اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے اکٹھا ہو جانا چاہیے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہماری آواز بازگشت بے نتیجہ نہیں رہی اور اب ممالک اسلامیہ کے درمیان وحدت پیدا کرنے کی غرض سے مؤتمر عالیم اسلامی کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔“ اُن دنوں پاکستان اور بیرونی ممالک کے بعض لوگ یہ سمجھے تھے کہ موتم عالیم اسلامی کا قیام محض ایک سیاسی سٹنٹ ہے جس سے حکومت پاکستان اپنی ہر دلعزیزی اور قبولیت بڑھانا چاہتی ہے تاکہ ملکی انتخابات کے لئے موافق اور سازگار حالات پیدا ہوں۔جواب نمائندگان میں سے بھی ایک نمائندہ نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان وفود کے پاس اُن کی حکومتوں کی طرف سے کوئی اختیار نہیں اور نہ حکومتیں ایسا اختیار دے سکتی ہیں بلکہ اگر اختیار دے بھی دیتیں تو اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہماری آواز کے ساتھ اپنی مقررہ اور مستقل پالیسی کو ہم آہنگ کریں گی۔امیرو در حضرت سید