تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 301 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 301

۲۹۵ دیتی ہے۔خدا تعالٰی نے جو کچھ انہیں دیا ہے خرچ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کرتی ہے۔ان صفات کی مالک جماعت اس لائق ہے کہ اس کا مستقبل شاندار اور روشن ہو کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے لے لے ومتر عالم اسلام می میم ایک اسلامیہ احمدی و موتمر عالم اسامی کے سالانہ اجلاس میں یا الیتیمی کا نام ہے جس کا قیام ضروری امر میں پاکستان کے پہلے دارالسلطنت کراچی میں ہوا۔اس موقع پر سلم نمائندگان نے مؤتمر کا ایک دستور مرتب کیا جس کی بنیاد قرآن عظیم کے ارشاد ربانی " إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ پیہ رکھی۔19: مؤتمر کا دوسرا سالانہ اجلاس اس سال و سے ۱۳ر فروری تک کراچی میں منعقد ہوا جس میں ۳۵ اسلامی ملکوں کے مندوبین نے شرکت کی اور دنیائے اسلام کو درپیش مسائل پر اپنے ممالک کی نمائستگی کی اور شفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ کشمیر فلسطین اور دوسرے ان تمام اسلامی ممالک کو آزاد کرانے کی متحدہ کوشش کی جائے۔حضرت مصلح موعود کی دیرینہ خواہش تھی کہ عالیم اسلامی کے متفرق اجزاء کسی طرح ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کہ اپنی عالمگیر مشکلات حل کرنے کی راہ سوچیں اور ایک دوسرے سے اُن کا رابطہ اور تعلق قائم ہو۔چنانچہ ہجرت ۱۳ رمئی راہ کے بعد حضور نے لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں متد و تقریریں فرمائیں جن میں اس اہم ضرورت کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلائی۔علاوہ ازیں ه ۱۳۲۹ / شاہ میں کراچی کے صحافیوں کی کانفرنس میں مسلمانوں کی تنظیم اور اتحاد پر بہت زور دیا۔و تر عالم اسلامی چونکہ وحدت عالم اسلام کے لئے پہلا خوشکن قدم تھا جس کو اٹھانے کی توفیق پاکستان کو میسر آئی تھی اس لئے حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک پر مؤتمر کے اس دوسرے اجلاس میں مرکز احمدیت سے ایک احمدی وفد نے خاص طور پر شرکت کی۔بستید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر و عوت و تبلیغ اس وفد کے امیر تھے اور چوہدری مشتاق احمد صاحب با جوه وکیل التبشیر تحریک جدید اه افضل ، تاریخ هن به سے وطن جانے کے بعد الدكتور عبد الوہاب عسکری نے اپنی کتاب مشاهداتی فی سماء الشرق میں بھی یہی رائے ظاہر کی۔ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد عن مناا ہے