تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 297
۲۹۲ حضور نے ۱۲۳ تبلیغ / فروری کو بھی اس تحریک کی اہمیت و تحریک ما کی اہمیت پر مزید روشنی اور بریزید روشن والی اور ارشاد را با به ضرورت پر فرمایا ہم میں سے ہر شخص کو اس مخالفت کے دیکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیئے کہ کیا اس میں وہ تقوی پایا جاتا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔کیا اس میں کامل سچائی پائی جاتی ہے۔کیا وہ غریب تو نہیں کرتا۔کیا وہ دھوکہ بازی سے تو کام نہیں لیتا۔کیا وہ نمازوں کا پابند ہے۔کیا وہ انصاف سے کام لیا ہے۔کیا وہ خداتعالی سے سنتی مت رکھتا ہے۔کیا وہ اسلام کے لئے ہرقسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہے۔کیا وہ بنی نوع انسان کا ہمدرد ہے۔اگر یہ تمام باتیں اس میں پائی جاتی ہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئیے کہ اس مخالفت کے ذریعہ خدا تعالیٰ اسے مارنے نہیں لگا کیونکہ اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خدا تعالی کونا راضی کرنے والا ہو لیکن اگر افراد قوم میں کثرت ایسے لوگوں کی ہو جو یہ کہیں کہ ہم میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں۔نہ ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی سچی محبت پائی جاتی ہے۔نہ ہم اس کے لئے قربانی کرتے ہیں۔نہ ہمارے اندر دین کی خدمت کا کوئی جوش پایا جاتا ہے۔نہ ہم نمازوں کے پابند ہیں۔نہ ذکر الہی کے عادی ہیں۔نہ جھوٹ اور فریب سے بچتے ہیں۔نہ ظلم اور فساد سے پر ہیز کرتے ہیں۔نہ اخلاق کے معیار پر پورے اترتے ہیں تو پھر انہیں سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ مخالفت کسی نشان کے ظہور کا پیش خیمہ نہیں ہو سکتی یہ انہیں گناہوں کی سزا دینے کے لئے پیدا کی جا رہی ہے۔اس صورت میں انہیں بہت زیادہ شکر کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیئے۔عام حالات میں انسان کا غافل رہتا بعض دفعہ قابل معافی بھی ہو جاتا ہے لیکن اگر سامان ایسے ظاہر ہو رہے ہوں جن سے یہ خطرہ ہو کہ میر سامان شاید ہماری سزا کے لئے پیدا کئے جارہے ہیں تو اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنی اصلاح نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان اور اپنی قوم کو تباہ کرتا ہے۔پس یہ معمولی حالات نہیں جماعت کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہیئے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیئے تا کہ اگر کچھ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے یہ سزا کا سامان بھی ہو تب بھی وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر لیں کہ یہ عذاب رحمت کا موجب بن جائے جیسے یونانی کے زمانہ میں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یونا نبی کی قوم پر اپنا عذاب نازل کرنا چاہا مگر جب اس قوم نے اپنی اصلاح کی اور تو یہ اور گریہ وزاری سے کام تو وہی عذاب اس کے لئے رحمت بن گیا۔پس ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ عذاب آتے ہیں مگر وہ انسانوں