تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 298 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 298

۲۹۳ کے لئے رحمت بن سجاتے ہیں۔اسی لئے یکس نے یہ تحریک کی ہے کہ اِن دنوں اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کے لئے متواتر دعائیں کی جائیں اور ہر پیر کے دن روزہ رکھا جائے تاکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اگر کوئی خوابی یا نقصان اس وقت ہمارے لئے مقدر ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو بدل دے ہمیں طاقت اور غلبہ عطا فرمائے اور ہمارے دشمنوں کو ان کی کوششوں میں ناکام بنا دے لے حضور کی اس خصوصی تحریک پر دنیا بھر کی احمدی جماعتوں نے احمدی جماعتوں کا والہانہ لبیک المان طورپر لبیک کہا اور مخلصین جماعت نے نہ صرف ۶ رای۔۔۔تبلیغ / فروری سے لے کر ۲۷ ریاہ امان/ مارچ تک متفرعانہ اور نیم شبی دعائیں کیں اور آنسوؤں سے اپنی سجدہ گاہوں کو تر کر دیا بلکہ نفلی روزوں کا بھی التزام کیا۔یہ ایام گویا پاکستان میں طاغوتی اور رحمانی طاقتوں کی کشمکش کے تھے۔ایک طرف باطل کے پرستار تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ قریہ قریہ میں حق و صداقت کے خلاف نفرت و حقارت کی آگ بھڑکا رہے تھے تو دوسری طرف حضرت مہدی موعود کی مظلوم جماعت جو حقیقی معنوں میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ سلم کی عاشق و خدائی تھی شبانہ روز دعاؤں کے باعث حضرت مہدی موعود کے اس شعر کا مصداق بنی ہوئی تھی کہ ہے عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں یہاں ہم ہو گئے یار یہاں میں احراریوں نے ۲۹۵ ۱۳۰ جواب انشاء ملتان کانفرنس کے جوب میں افضل کا خصوصی نمبر کے اور میں تحفظ ختم نبوت کے نام ۱۹۵۰ آخر پر ملتان میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں احراری لیڈروں نے جماعت احمدیہ پر بے بنیاد اعتراضات کئے۔احراری ترجمان آزاد نے ۲۶ دسمبر شاہ کے پرچہ میں اس کانفرنس کی روداد شائع کر کے ملک بھر میں اس کے زہر یلے اثرات پہنچا دئیے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر تالیف و تصنیف نے ان اعتراضات کے جواب میں ایک مبسوط و مدل مقاله سپر و قلم فرما یا جود بر فروری ۱۹۵مه (مطابق ۲۸ تبلیغ ۳۲) کے الفضل میں شائع کیا گیا۔مولانا شمس صاحب نے ۳۲ صفحات کے اس خاص نمبر میں نہ صرف ہر احراری لیڈر کی تقریرہ پر ه الفضل رامان ه۱۳۰۳۰ مارچ ۹۵۷ه من به