تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 296
٢٩١ کوئی فرضی روزے ہوں وہ ان ایام کے روزوں کو اپنے فرضی روزوں کی جگہ رکھ لیں عورتیں جن کو بعض ایام میں روزے منع ہوں یا بیمار ہوں ہفتہ میں جمعرات کو یا اگلے ہفتوں میں جمعرات میں روزے رکھ کر اپنی کمی پوری کر سکتی ہیں۔شاید لوگ ہنسیں گے کہ اتنے بڑے مجموعی ارادوں کے مقابلہ میں انہوں نے کیا تیر مارا ہے لیکن جو سنتے ہیں انہیں سہنستے دور ہمارے خدا کو انہوں نے نہیں، دیکھنا، ہمارے خدا کے تیروں اور سہتھیاروں کو انہوں نے نہیں دیکھا لیکن ان کے نہ دیکھنے کی وجہ سے تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ نہیں ہے۔ان کے نہ دیکھنے کی وجہ سے تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کوئی معمولی گرفت ہے۔ہمارا خدا وہی ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے تُعِزُّ مَنْ نَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرِ تُوجس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔تمام خیر اور نیکیاں تیرے قبضہ میں ہی ہیں یہی وہ چیز ہے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے انبیاء ہمیشہ فتح پاتے رہے ہیں۔حضرت ابراہیم کے پاس کونسی فوج تھی، حضرت نوح کے پاس کونسی فوج تھی۔کوئی دس سال کی کوشش سے اور اربوں ارب روپیہ خوش کرنے کے بعد امریکہ نے ایٹم بم ایجا د یا ہے اور اب روس اس کی نقل کر رہا ہے۔لاکھوں آدمی اس کام پر لگے رہے اور سینکڑوں سائنسدان اس کی تیاری میں دن رات مشغول رہے۔لیکن نوع کو دیکھو وہ رات دن تبلیغ میں لگا رہا۔اس نے ایک تیر اور کمان بھی نہیں بنائی وہ صرف دعاؤں اور لوگوں کو تبلیغ اور نصیحت میں لگا رہا۔اس کے لئے آسمان پر ایٹم بم تیار ہو رہے تھے ، عرش پر اس کے لئے تو ہیں بن رہی تھیں۔چنانچہ ایک دن آیا کہ آسمان سے بھی پانی برسا اور زمین نے بھی پانی اگل دیا اور اس سے اتنا مسلح لاقہ برباد ہوگیا جس کو دن ہزار ایٹم بم بھی برباد نہیں کر سکتے ہیں جو کچھ میں تمہیں دیتا ہوں وہ بہت زیادہ طاقت ور ہے۔اتنی طاقت اور قوت دُنیا کی حکومتوں کے پاس نہیں ہوتی لیکن ضرورت ایمان کی ہے، ضرورت یقین کی ہے ، ضرورت عمل کی ہے۔جو خدا کی طرف ایک قدم بڑھتا ہے خدا اس کی طرف دو قدم بڑھتا ہے۔اور جو خدا کی طاقت پر یقین رکھتا ہے اس کے سامنے دُنیا کی ساری طاقتیں ہیچ ہو جاتی ہیں۔اے ۱۹۵۱ له الفضل ال۱ تبلیغ ه ۱۳۳۳ / فروری ها و حت فرموده ۲ فروری ۹۵ اند به