تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 285
کے نام کو بلند کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے ایک نیک بنیاد قائم کر دیں گے تو ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائیں گی لیکن اگر ہم اس نیک بنیاد کو قائم کرنے میں حصہ نہیں لیں گے تو آپ لوگوں کو یا د رکھنا چاہیئے کہ گوروحانی نقطہ نگاہ کے ماتحت ہم کچھ کریں یانہ کریں یہ سلسلہ ہر حال ترقی کرتا چلا جائیگا کیونکہ یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے لیکن دنیوی نقطہ نگاہ کے ماتحت ہم اور ہماری اولادیں ان انعامات سے محروم ہو جائیں گی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ کی خدمت کرنے والوں کے لئے مقدرہیں اور جولا زنا ایک دن ملنے والے ہیں۔زمین ٹل جائے، آسمان ٹل جائے آخر احمدیت نے دنیا میں قائم ہونا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی ایک اہل تقدیر ہے۔اس کی طرف یہ منسوب کرتا کہ اس نے اپنا ایک مامور بھیجا مگر وہ ہار گیا ایک پاگل پن کی بات ہے۔اگر خدا ہے اور اگر خدا اپنے نبیوں کو بھیجا رہا ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو بھیجا تھاتو ہم اپنے وجودمیں شبہ کر سکتے ہیں ہم اپنے کان، ناک، منہ اور زبان میں شہر کر سکتے ہیں ہم اپنے بیوی بچوں کے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں مگر ہم اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کا مامور اور مرسل جس تعلیم کو لے کر آیا ہے وہ یقینا اپنے وقت پر کامیاب ہوگی دشمن اس سے ٹکرائے گا تو پاش پاش ہو جائیگا جس طرح ایک دریا کی زبر دست لہریں چٹان سے ٹکرا کر پیچھے ہٹنے پرمجبور ہوتی ہیں اسی طرح انکی مخالفت ناکام ثابت ہوگی اور یہ سلسلہ عروج حاصل کرتا پہلا جائے گا ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہم نے کتنا فائدہ اُٹھایا ہے۔لوگ نہ ہونے والی چیزوں کے متعلق اپنا پورا زور صرف کر دیا کرتے ہیں اور ہم تو وہ کام کر رہے ہیں جو یقینا ہونے والا ہے اور جس کی پشت پراللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے اگر خدا تعالیٰ کی بات ٹل جائے تو اس کی خدائی ہی باطل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی باتوں میں فرق یہی یہی ہوتا ہے کہ بندہ بعض دفعہ پورے سامانوں کے ساتھ اُٹھتا ہے اور نا کام ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جس بات کا فیصلہ کرلئے اس کے پورا ہونے میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اگر آپ اس کام میں حصہ لے کر آنے والی کامیابی کو قریب کر دیں اور خدا آجائے