تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 282
کی پارٹی، ڈوگروں اور مولویوں کے مشترکہ محاذ کی وجہ سے جیت نہ سکے مگر ان تین طاقتوں کے نمائندے سے احمدی نمائندے کے ووٹ صرف دو سر کم تھے۔اور سب لوگ جانتے ہیں کہ شیخ عبداللہ نے اتنا خطرہ محسوس کیا تھا کہ سارے کشمیر کو چھوڑ کر وہ اس علاقہ میں آگئے تھے اور اپنی ساری طاقت احمدیوں کو شکست دینے میں لگا دی تھی۔اس علاقہ میں اکثر ڈوگرہ رؤساء کی جائدادیں ہیں اور غریب مسلمان ان سے دبے ہوئے ہیں۔اُن کے مقابل پر احمدی ہی کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ وہ زمیندار اور تاجر اور منتظم ہیں۔انکی مدد سے ہی ہندو ڈوگروں کا مقابلہ ہوتا ہے۔چنانچہ رشی نگر کا مشہور مقدمہ اس کا گواہ ہے کہ ڈوگرہ رئیس کا مقابلہ احمدی جماعت نے مل کر کیا۔اگر احمدی جماعت بھی ان لوگوں سے جاملے تو مسلمانوں کی طاقت اس درمیانی علاقہ میں بہت کمزور ہو جاتی ہے اور سری نگر اکثر شرف سے اسلامی علاقوں سے کٹ جاتا ہے۔ن حالات میں ہم پوچھتے ہیں کیا احد لوں کے خلاف موجودہ شورش کشمیر کے مفاد میں ہوگی؟ ایک قوم سے آپ کتنی ہی اُمید رکھیں مگر اسے کا فراور مرتد اور اچھوت قرار دیے کہ اُس سے یہ خواہش رکھنی کہ وہ آپ کے حق میں ووٹ دیں کتنی خلات عقل بات ہے۔آخر جب ایک شخص دوسرے سے ملتا ہے تو یہ مجھ کر ملتا ہے کہ دوسرا شخص اُس کا دوست ہے۔اگر دوسرا اپنی دشمنی کا ثبوت دے تو وہ اُسے ووٹ کیوں دے گا اور دشمنی ظاہر کرنے والا اُس سے امید ہی کیوں رکھے گا پس گردنی دنی اور اقلیت قرار دے کر اور اُن کے خلاف شہروں میں بلوے کر کے بعض آدمیوں کو قتل کر کے یہ امید کرتا کہ کشمیر کا احمدی شوق سے آگے بڑھے گا اور کہے گا کہ میں پاکستان جانا چاہتا ہوں کہانتک عقل کے مطابق ہے؟ اور احمدیوں کو جو بڑی تعداد میں اس علاقہ میں پائے جاتے ہیں اور جنہوں نے پہلے اپنی شیشی میں ڈوگرہ حکومت کے دانت کھٹے کر دیئے تھے ڈرا دینا اور پاکستان سے متنفر کر دینا تا کہ وہ ڈوگروں اور شیخ عبد اللہ کی جماعت سے مل کر پاکستان سے الگ رہنے کا ووٹ دیں کشمیر کے مستقبل کے لئے کس قدر خطر ناک ہے۔یہ صاف بات ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں انہیں ہندوستانی حکومت سے مد دیل رہی ہے اور وہ کشمیر کی رائے شماری کو ناکام بنانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں مگر ہم کو چھتے ہیں کہ سرحد کا وہ فیتو مسلمان جس کے خون سے ہماری وادیاں چمک رہی ہیں کیا اپنی قربانی کو اس طرح صنائع ہونے دے گا ؟ اگر رائے شماری سے فیصلہ ہوتا ہے اور اگر رائے شماری