تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 279 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 279

۲۷۴ ساتھ ساتھ مغل خون کا ایک مجسمہ سمجھتے ہیں۔اور ہمیں یہ یقین ہے کہ ان کی غیرت و حمیت کا یہ تقاضا ہو گا جیسا کہ اس نے بارہا اظہار بھی کیا ہے کہ ہندوستان و پاکستان غلامی کی لعنت سے آزاد ہو گئے ہیں۔۔۔مسلے درد مند دل مقتدر کشمیری مسلمانوں کی ایک کشمیری رائے شماری کی بنا پر فیصلہ کرنے کا اصول یو این او ، بھارت اور پاکستان تینوں احراری شورش کے خلاف احتجاج تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے تھے اور یہ خیال ہو چلا تھا کہ وادی کشمیر کے باشندے آزادانہ انتخاب کے ذریعہ اپنا فیصلہ پاکستان کے حق میں دیں گے کہ احرار میدان مخالفت میں آگئے اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دئے جانے کا مطالبہ کرنے لگے۔چونکہ کشمیر کے اُس مرکزی حصہ میں جو انتخاب کے معاملہ میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتا تھا احمدی بھاری تعداد میں موجود تھے، اور موجود ہیں اس لئے یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگر احرار اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوگئے اور احمدیوں و غیرمسلم قرار دے دیاگیا تو کشمیری مسلمانوں کا اتناب غیرمسلم آبادی کے مقابل کم رہ جائے گا اور بھارت انتخاب کے مسلہ جمہوری طریق سے پورے کشمیر کو اپنے ملک کا اٹوٹ انگ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔اس تشویشناک صورت حال نے دردمند دل رکھنے والے کشمیری مسلمانوں کو لرزا دیا اور اُن کی طرف سے حسب ذیل اشتہار ملک بھر میں تقسیم کیا گیا۔اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بي الله الرحمن الرحيم خدا کے لئے کشمیر اور کشمیر لوں پرسم کریں! تمام مسلمانان پاکستان کی خدمت میں عموماً اور اہالی صوبہ سرسید و آزاد علاقہ کی خدمت میں خصوصاً ہم ساکنان کشمیر کی طرف سے عرض ہے کہ ہم لوگ پانچ سال سے متواتر مصائب اور ظالم کا تختہ مشق بن رہے ہیں۔ساری آبادی کشمیر کے مسلمانوں کی کوئی بہنیں تیس لاکھ ہے اس میں سے قریباً ایک لاکھ سے زائد مارا گیا ہے یعنی پانچے فیصدی سے بھی زیادہ اور بعض کی جائدادیں منقولہ ہوں یا غیرمنقولہ دشمنوں کے ہاتھوں میں ہیں اور باقی غلامی کی زندگی بسر کر رہتے ہیں۔نہ بجائے ماندن ہے نہ پائے رشتوں نے اے نظام پیشاور ۲۰ جولائی منشائد ؟