تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 277
۲۷۲ حکومت کہیں گے۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ صاحب ! اسلام دشمن سے بھی انصاف کا حکم دیتا ہے اور تقویٰ اور الصبات اُس کے نزدیک ہم معنی ہیں۔وہ انسان اور انسان میں کسی تفریق کا روادار ہیں۔نیز اس کا حکم ہے کہ اپنے غیر مسلم ہمسائے تک کو بھائی سمجھو اور ایسا نہ ہو کہ خود تو پیٹ بھر لو ور سے بھوکا چھوڑ دو۔اور پھر اسلام مشورے کو حکومت کا انساس، مانتا ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ امیر کوئی کام جمہور سے پوچھے بغیرنہ کرے اور وہ اپنے آپ کو اُن کے سامنے مسئول سمجھے اور یہ کہ امیر کو منتخب اور معزول کرنے کا حق جمہور کو ہے اور وہ ظلم اور معاہد شکنی سے روکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس لئے ضروری ہے کہ دستور پاکستان کا اساس اسلام کے یہ عمومی اور عالمگیر اصول ہوں ہمارے خیال میں کوئی شخص بھی اسلام کے ان عمومی اصولوں کو اساں دستور بنانے پر معترض نہیں ہوگا۔نہ کشتی، نہ شیعہ ، نہ احمدی، نہ ہندو، نہ عیسائی اور نہ پارسی، اور ان عمومی حضرونوں پر جو حکومت بنے گی اُسے سب پسند کریں گے۔وہ بھی جو اُس کے ماتحت رہتے ہوں گے اور وہ بھی جو اُس سے ہزاروں میل دور کے ملک کے باشندے ہوں گے۔۔۔۔دوسرے یہ کہ ہم تمام پاکستانیوں کو ایک قوم مانتے ہیں یعنی اُن سب کو جو اس سر زمین کے باشندے ہیں یا جنہوں نے اب اس کو اپنا وطن بنا لیا ہے ہم ان میں سے کسی قسم کی سیاسی تفریق کے حامی نہیں۔یہاں کا ایک ہندو بھی اُتنا ہی پاکستانی ہے جتنا ایک مسلمان۔اگر ایک ہند و عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو جائے تو وہ ہماری پارلیمنٹ میں اسی طرح بیٹھنے کا حقدار ہے جس طرح ایک مسلمان اور اُس کو ترقی کے تمام مواقع ملنے چاہئیں کہ میں طرح کہ مسلمانوں کو یعنی قانونا ہندو اور مسلمان کی تمیز نہیں ہونی چاہیئے۔اسی طرح ہمارے نزدیک شیعہ اور سنی اور مسلمان اور احمدی میں سیاسی تفریق بھی صحیح نہیں اور گو ہم ذاتی طور پر جماعت احرار کے بزرگوں کے بے حد نیازمند ہیں لیکن احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی جدوجہد جو انہوں نے شروع کر رکھی ہے اس سے کبھی ہمیں اتفاق نہیں رہا کیونکہ ایک جمہوری ملک میں سیاسی اکثریتیں اور اقلیتیں نہیں ہوتیں۔ہم انور پاشا مرحوم کی مشہور تر کی انجمن اتحاد و ترقی کے اس مشہور فقرے کے کہ " سب کی ایک سی ذمہ داریاں اور ایک سے حقوق" کے قائل ہیں اور یہی جمہوری نظام کا اصل اصول ہے۔اب اگر پاکستان میں کسی ایک مذہبی فرقے کی |