تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 273 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 273

۲۶۸ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے وہ دوائی لے کر رکھ لی اور یہ استعمال نہیں کی کیونکہ بو بہ طبیب ہونے کے میرا یہ خیال تھا کہ فائدہ تو تشخیص پر مبنی ہوتا ہے جب میں کسی شخص کی بیماری یا اس کی کمزوری کی وجہ مشخص نہ ہو کسی دوائی کو اس کے لئے مفید نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے میں نے ادب کی وجہ سے دوائی تو رکھ لی مگر استعمال نہ کی۔واپس جہتوں بجاتے ہوئے میری اہلیہ بھی ساتھ تھیں ہم راستہ میں ایک رئیس کے پاس ٹھرے اس کے اولاد نہیں ہوتی تھی میری بیوی نے اس کی بیوی سے پوچھا کہ تمہارے اولاد کیوں نہیں ہوتی۔اس نے کہا اولاد کیا ہوتی ہے میرے خاوند میں تو بعض مردانہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں آپ ہی حکیم صاحب سے کہیں کہ وہ کوئی دوائی دیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میری بیوی نے مجھ سے یہ ذکر کیا تو چونکہ ہم مسافرت میں تھے اور تو کوئی دوائی تھی نہیں ہیں نے وہی گولیاں زرجام عشق اس کو دیدیں۔ایک دو دن کے استعمال سے اسے بے نظیر فائدہ ہوا جس کا نتیجہ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے اولاد بھی ہوگئی۔جب ہم چلنے لگے تو اس کی بیوی نے میری بیوی کو یہ کہ کرکہ آپ نے تو ہمارا اجڑا گھر بسا دیا ہے اپنے سونے کے کڑاہے اتار کو تحفہ کے طور پر دے دیئے اور مجھے بھی اُس رئیسں نے بہت سی رقم اور دوسری چیزیں تحفہ میں دیں تب میرے دل میں خیال آیا کہ خدا تعالیٰ کے بندوں کی کوئی بات بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔میں نے تو سمجھا تھا کہ یونسی دوستانہ رنگ میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام نے گولیاں مجھے دے دی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن سے یہ گولیاں اس لئے دلوائی تھیں کہ وہ میرے کام آنے والی تھیں اور مجھے اُن سے بہت فائدہ پہنچنے والا تھا۔یہ روایت میں نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور یکس سمجھتا ہوں کہ یہ روایت بھی ہماری تاریخ میں محفوظ ہو جانی چاہیے۔اس روایت کی تفصیلات سے مجھ پر یہ اثر ہے کہ یہ زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ عظیم درایت میں یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ تفصیلی روایت مجمل روایت کی شارح ہوتی ہے۔ممکن ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مختصراً یہ فرمایا ہو کہ ہم نے یہ گولیاں ایک رئیس کو دیں تو اس کو فائدہ ہوا۔اور اتنا حصہ روایت کا اوپر والی روایت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے اور سننے والے نے دوسرے ذرائع سے یہ بات معلوم کر کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بھی نسخہ استعمال فرماتے تھے یہ خیال کر لیا کہ وہ رئیس والا واقعہ پہلے کا ہے اور حضرت سیے مولو علیہ الصلوۃ و السلام کے اس نسخہ کے استعمال کرنے کا واقعہ بعد کا ہے اور اس طرح روایت