تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 271
۲۶۶ تو اس کو کیوں نہ استعمال کیا جائے لیکن متواتر خط و کتابت میں (ان صاحب نے ایک بات لکھی میں نے میری طبیعت پر اثر کیا اور وہ بات یہ تھی کہ خاندان نبوت سے یہ وھو کا لگتا ہے کہ شاید یہیں ایک خاندان نبوت ہے اور یکں نے سمجھا کہ اس قسم کا دھوکا ضرور پیدا ہو جاتا ہے اس لئے اس لفظ کا استعمال ٹھیک نہیں۔اصل نبوت تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کی نبوت تولی ہے پی اصل خاندان نبوت تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے جس نے اپنی قربانیوں سے او اپنے ایثار سے اور اپنی خدمت اسلام سے یہ ثابت کر دیا کہ ان کے دل میں اس فضلی اور احسان کی بہت بڑی قدر ہے جو خدا تعالیٰ نے انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں پیدا کر کے کیا ہے پس ایسا کوئی لفظ جس سے یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ کسی اور خاندان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواندان کے علاوہ کوئی امتیاز دیا جاتا ہے تو خواہ وہ نادانستہ ہی ہو پسندیدہ نہیں اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ الفضل میں اور دوسری احمدی تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے شاندان کو خاندان نبوت کی بجائے نماند ان کیسے موجود لکھا جایا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے جتنے دعاوی ہیں وہ سارے کے سارے مسیح موعود کے لفظ میں شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ ؟ نام آپ کا حاوی نام ہے رپی خاندان مسیح موعود کہنے سے وہ تمام باتیں اس خاندان کی طرف منسوب ہو جاتی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلق کی وجہ سے ان کی طرف منسوب ہو سکتی ہیں۔اصل سوال تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا نماندان اپنے عمل سے اپنے آپ کو اس مقام کا اہل ثابت کرے جو مقام خدا تعالیٰ نے ان کو بخشا ہے۔اگر ان میں سے ہی بہتی دنیا کے کاموں میں لگ جائیں اور روٹی انہیں خدا تعالیٰ پر مقدم ہو تو انہیں خاندان نبوت کہا سمائے یا خانوادہ الوہیت کہا جائے بلکہ خواہ خدا ہی کہ دیا جائے ہر تعریف، ان کے لئے ہتک کا ہی موجب ہو گی کیسی عزت کا موجب نہیں ہو گا بلکہ یہ کچھا جائے گا کہ ان کی تعریف کرنے والے لوگ ان کو زیادہ سے زیادہ خدا تعالی اسے پھر انا چاہتے ہیں۔خاکسار مرزا محمود احمد یا اے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ا ریہ کے متعلق ایک است او صور مسلم مو و کی رہنمائی ہیں جبکہ آپ کی دوسری شادی نہیں له الفضل ۲ ۱۹ ها :