تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 262
۲۵۷ حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے انڈونیشین حضر معلم موندو کانگریزی زبان میں خطاب اساسی را با ام الکوتی اور پروین ملک کے الحمد ی مسٹر زنگ دیگر احمدی مہمانوں کے اعزاز میں ارماہ صلح کو ایک دعوت عصرانہ دی بس میں سورۃ بقرہ رکوع عمل کی تلاوت کے بعد انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : قربانی کرو اور کرتے چلے جاؤ۔خدا تعالیٰ کے احکام پر مجنونانہ عمل کرو اور کرتے چلے جاؤ اور نتائج کے متعلق کوئی تردد نہ کرو کیونکہ جس کے ہاتھ میں نتائج ہیں وہ انشاء اللہ اپنے سلسلہ کو خود بار آور کرے گا اور اُسے ہر قسم کی تباہی سے بچائے گا۔اے ۹ ارماد صلح پر جنوری کو جماعت جل سیالکوٹ پر سنگباری او ایک عید رح کا قبول احمدیت محمد اب بالکوٹ نے بینک ملک احمدیہ منعقد کیا جس کا پہلا اجلاس صبح ساڑھے دس بجے سے لیکر ڈیڑھ بجے تک احراریوں کی مزاحمت کے باوجود جاری رہا جس سے پرنسپل جامعہ احمدیہ مولانا ابو العطار صاحب، مولانا جلال الدین صاحب شمس اور چوہدری اسد اللہ خان صاحب نے تقریریں کیں۔اس کے بعد جب دوسرے انیل اس میں ملک بلوار مجھے صاحب خادم گجراتی کی تقریر شروع ہونے لگی تو احرار اور خاکساروں نے شور مچانا اور مانترین جلسہ پچر بے دریغ پنچھ پھینکنا شروع کر دئے اور ساتھ ہی لاؤڈ سپیکر لگا کر بائی سلسلہ احمدیہ جماعت احمدیع ل کا پر یہ سلسلہ اور وزیر خارجہ پاکستان کے خلاف گالیاں دینے لگے۔پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن جب یہ لوگ اپنی ان غیر اسلامی حرکات سے باز نہ آئے تو بالآخر حکام نے امیر جماعت احمدیہ کو جلسہ بند کر دینے کی تلقین کی۔احمدی اس دوران میں نہایت پر امن رہتے اور حکومت سے تعاون کرتے ہوئے بیا۔نیتم کر دیا۔احراریوں کی ٹولیاں جلسے کے بعد بازاروں میں گشت لگا کر بھی اکا دکا احمدیوں کو زد و کوب کرتی رہیں اور دو ایک احمدیوں کی دکانیں بھی ٹوٹیں گر ا حمد یوں نے قانون کو ہاتھ میں لینا گوارا نہ کیا۔احمدیوں کے اس صحیح اسلامی نمونہ کا یہ اثر ہوا کہ ایک شخص نے دا خلیل احمدیت ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر یہی اسلام ہے۔بنو احراریوں نے آج پیش کیا ہے تو مجھے له الفضل ۲۶ صالح / جنوری ۱۹ ۲