تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 14 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 14

اس کمزور آواز کو بلند سے بلند کرتا چلا جائے گا کہ حکومتیں اور افراد دونوں ہی اخلاقی ذمہ داریوں کو اپنے اوپر حاکم تصور کریں اور اپنے آپ کو اخلاقی حکومت سے بالا خیال نہ کریں ہم سمجھتے ہیں کہ سچائی، دیانت اور عدل کے قوانین کو اگر پوری طرح مد نظر رکھا جائے تو بہت سی مشکلات جو اس وقت ناقابلِ صل معلوم ہوتی ہیں آسانی سے حل ہو سکتی ہیں۔ہر قوم کو دوسری قوم کا حق دینا چاہئیے اور ایک ملک میں رہنے والی سب قوموں کو آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیئے۔سیاسی اختلافات کی بنیاد ملک کی ترقی پر رکھنی چاہئیے نہ کہ قوموں کے اندر اختلاف اور انشقاق پیدا کرنے پر۔ہماری یہ کوشش ہو گی کہ ہم سب سے پہلے جماعت احمدیہ کو اس کے اخلاقی فرائض کی طرف توجہ دلائیں جوں میں اُن کے مذہبی پیشواؤں نے ہم سے اتفاق کیا ہے اور اُن کو اپنے پیشواؤں کی سچی پیروی کی ہدایت کریں۔۳۔اس وقت ایک عظیم الشان حادثہ کی وجہ سے مسلمانوں میں انتشار پیدا ہو رہا ہے اور وہ حیران ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے ؟ اس اثر سے احمدی جماعت بھی آزاد نہیں۔ہمارے نزدیک اس انتشار کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ملک کی تقسیم کے بعد بھی سلمان ہندوستان میں آزادی سے رہ سکتا ہے اگر و عقل سے کام نے سیاسی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم مذہبی اور اخلاقی پہلو جماعت اور دوسر نے سلمانوں کے سامنے رکھتے رہیں گے جن کی روشنی میں وہ ہندوستان کی حکومت کا ایک مفید مجنز و بن سکیں اور بہندوستان میں امن اور عزت کی زندگی بسر کر سکیں۔ہم ایسی ہی خدمت اُن ہندوؤں اور سکھوں کی بھی کرنے کے لئے تیار رہیں گے جنہوں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے یا جو آئندہ ایسا فیصلہ کریں۔غرض اس پرچہ کی بنیا دمذہب اور اخلاق پر ہوگی اور مصلح اور آشتی پر ہوگی۔یہ پرچہ سیاسیان سے الگ رہے گا۔اختلافات کو بڑھائے گا نہیں کم کرنے کی کوشش کرے گا۔جہاں تک عوامی تعلقات کا سوال ہے یہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام کے جوش میں آئے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا اور ہر غداری کی رُوح کو خواہ وہ پاکستان میں سر اٹھائے یا ہندوستان میں سر اٹھائے دبانے کی کوشش کرے گا بلکہ صرف ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے ہر گوشہ کے لوگوں کے لئے " الرحمت رحمت کا نشان بنے کی سعی کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس ارادہ میں پورا اترنے کی