تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 250
۲۴۵ ڈاکٹر صاحب مرحوم انقلاب ہندوستان اور ہجرت قادیان کے وقت قادیان میں تھے۔اُن دنوں ڈاکٹر صاحب کے منہ سے اکثر خدا تعالیٰ سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلتے کہ دیا الہی تو قادیان میں ہی وفات دے دے؛ لیکن جب سلسلہ کے نظام کے ماتحت آپ کو قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان آنا پڑا تو آپ جناب الہی میں یہ عرض کرنے لگے کہ اگر قادیان میں میری وفات مقدر نہیں تو افریقہ کی سر زمین ہی ہیں نے چلیں۔مرحوم کی یہ دعا قبول ہوئی اور آپ کی وفات نیروبی میں ہوئی اور احمد یہ قبرستان نیروبی میں سپرد خاک کئے گئے۔حضرت ڈاکٹر صاحب موصی تھے اور مقامی اور مرکزی تحریکوں میں سرگرم حصہ لیتے تھے۔بہت سے نیک کام کئے طبیعت میں خاص مزاح تھا اور مرنجاں مریخ طبیعت کے مالک تھے۔بیچتے، جوان اور بوڑھے سب ہی ان کی مجلس اور گفتگو سے حفظ اُٹھاتے۔نیروبی کے ہر قوم کے لوگ جو ان کے واقف تھے ، انہیں بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیے اجزا کی (ولادت، قریباً ۸۸۳۵ - وفات ۲ امان ۱۳۹۶ مطابق ۲ مارچ نامه بعمر ۱۵ سال) حکیم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے شاگر بھی تھے اور آپ کے ساتھ بہت عرصہ دربار کشمیر میں ملازم رہ چکے تھے اور اکثر چشم دید حالات جو نہایت ایمان افروز ہوتے شنایا کرتے تھے۔پیرانہ سالی کے باوجود نماز پنج گانہ کو بالالتزام ادا کرتے اور ہر نماز کے وقت تازه وضو کرتے تبلیغ کے بہت شائق تھے اور اکثر مریضوں اور ملنے والوں کو تبلیغ کرتے اور اشتہارات یا کتب سلسلہ بھی تقسیم کرتے رہتے تھے۔آپ سلسلہ پر نہایت سچا ایمان رکھنے والے اور سیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کا بے حد ادب و احترام کرنے والے بزرگ تھے۔۳۲ راء کو حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی کراچی تشریف لائے تو انہوں نے نظر کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے نواسہ چوہدری فیض عالم خان صاحب کو ساتھ لیا اور نماز جمعہ کے بعد حضور سے مصافحہ کیا اور بہت خوشی ظاہر کی۔له الفضل ۱۹ رامان ه۱۳۹ / مارچ شاه مث وملخصا از مضمون مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ) :