تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 247
۲۴۲ مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے تو آپ نے بھی ہجرت کر لی اور اقدار میں رہائش پذیر ہو گئے۔آپ نے محض اس جذبہ سے کہ حضرت مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصانیف بہترین صورت میں چھپ کی کتابت سیکھی پچنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام کی بہت سی کتابوں کے پہلے ایڈیشن آپ ہی کے قلم سے لکھے ہوئے ہیں اور بہت دیدہ زیب اور نفیس ہونے کے علاوہ نہایت صاف اور صحیح چھپے ہوئے ہیں۔حضور علیہ السلام نے اپنے اشتہار۔اکتوبر شام میں خاص طور پر آپ کی اس عظیم خدمت کا ذکر طور کرتے ہوئے تحریہ فرمایا :۔بطور شکر احسان باری تعالٰی کے اس بات کا ذکر کرنا واجبات سے ہے کہ میر سے اہم کام تحریر تالیفات میں خدا تعالیٰ کے فضل نے مجھے ایک عمدہ اور قابل قدر مخلص دیا ہے لینے عزیزی میاں منظور محمد کاپی نویس جو نہایت خوشخط ہے جو نہ دنیا کے لئے بلکہ محض دین کی محبت سے کام کرتا ہے اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے اسی جگہ قادیان میں اقامت اختیار کی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی بڑی عنایت ہے کہ میری مرضی کے موافق ایسا مخلص سرگرم مجھے میسر آیا ہے کہ پانی ہر ایک وقت دن کو بارات کو کاپی نویسی کی خدمت اس سے لیتا ہوں اور وہ پوری جان فشانی سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے اس خدمت کو انجام دیتا ہے یہی سبب ہے کہ اس روحانی جنگ کے وقت میں میری طرف سے دشمنوں کو شکست دینے والے رسالوں کے ذریعہ سے تابڑ توڑ مخالفوں پر غیر ہو رہے ہیں۔اور در حقیقت ایسے موید اسباب میسر کر دیا یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے جس طرف سے دیکھا جائے تمام نیک اسباب میرے لئے میستر کئے گئے ہیں اور تحریر میں مجھے وہ طاقت دی گئی ہے کہ گویا میں نہیں بلکہ فرشتے لکھتے جاتے ہیں گو بظا ہر میرے ہی ہاتھ ہیں پیر صاحب کتابت کے دوران ہی جوڑوں کے درد کی وجہ سے معذور ہو گئے تو انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی منظوری سے حضور کے صاحبزادگان اور صاحبزادیوں کو قرآن شریف ناظرہ پڑھایا اور انہی کی تعلیم کی غرض سے لیستر نا القرآن" کا مشہور و معروف قاعدہ ایجاد کیا جس کے ذریعہ نہ صرف بر صغیر بلکہ بیرونی ممالک کے لاکھوں ان پڑھ لوگوں کو قرآن کریم پڑھنے کی توفیق علی اور اس وقت تک اسکے بہت سے ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔اس قاعدہ کی تعریف میں حضور نے شائر میں اپنی اولاد کی آئین میں له تبلیغ رسالت جلد ہشتم من :