تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 248 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 248

۲۴۳ فرمایا پڑھایا جس نے اس پر بھی کرم کہ جزا دے دین اور دنیا میں بہتر رہ تعلیم اک تو نے بت نیزا اپنے تعلیم مبارک سے لکھا:۔نسبحان الذي اخر الاعادي قاعدہ میسر نا القرآن بچوں کے لئے بے شک مفید چیز ہے۔اس سے بہتر اور کوئی طریقہ تعلیم خیال میں نہیں آتا ہے خلافت ثانیہ کے قیام پر پیر صاحب نے رسالہ " تشمیذ الاذہان میں پسر موعود نشان فضل" اور قدرت ثانیہ کے عنوان سے تین معرکۃ الآراء مضامین لکھے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی تحریرات سے ثابت کر دکھایا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفہ اسیح الثانی ہی اشتہار ۲۰ فروری مشتملئر کے حقیقی مصداق اور مصلح موجود ہیں۔یہ مضامین جن میں سے دو کتابی شکل میں بھی چھپ گئے ان مباحث کی پیر چے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ان کی وفات پر ایک نوٹ میں لکھا کہ حضرت پیر صاحب کے مزاج میں تصوف بہت غالب تھا مگر اس کے ساتھ زندہ دلی بھی بہت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ خاص عقیدت رکھتے تھے ؟ اے حضرت مصلح موعود نے ان کی وفات پر فرمایا :- پر منظور محمد صاحب جنہوں نے قاعدہ لیتر ن القرآن ایجاد کیا تھا وہ پرسوں فوت ہو گئے ہیں۔پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی تھے اور پھر حضرت خلیفہ اسی الاول جن کے سالے تھے ہم مبینی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہیں پر صاحب ان کے استاد بلکہ ہم تینوں بھائیوں اور ہماری میں مبارکہ میگم کو قرآن کریم پڑھانے کے زمانہ میں ہی انہوں نے قاعدہ میسر نا القرآن ایجاد کیا تھا تو له الفضل ۱۲۳ جون ۹۵ ئه من له الفضل در جولائی 19 رمث