تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 246 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 246

کا محکمہ بہت حد تک اس کا ذمہ دار ہے۔یکی جماعت کو بدقسمت سمجھوں گا اگر وہ اپنی تاریخ سے ناواقف ہو جائے جو جنازہ آیا تھا وہ عبداللہ صاحب نورٹی کے بیٹے کا تھا جو صوفی عبد القدیر صاحب نیاز کے بڑے بھائی اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد ( ناظر امور خارجہ صدر انجمن اسحمدیہ ) کے پھوپھی زاد بھائی تھے مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی ہستی ایسی نہیں کہ جماعت کے جاہل سے جاہل اور نئے سے نئے آدمی کے متعلق بھی یہ قیاس کیا جا سکے کہ اسے آپ کا نام معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا و کشفت جس میں کپڑے پر سُرخ روشنائی ظاہری طور پر دکھائی دی مولوی صاحب اس نشان کے حامل اور خشیم دید گواہ تھے۔ان کی آنکھوں کے سامنے وہ چھینٹے گرے اور پھر خدا تعالیٰ نے انہیں یہ مزید فضیلت بخشی تھی کہ ایک چھینٹا ان کی ٹوپی پر بھی آپڑا گویا خدا تعالیٰ کے عظیم الشان نشان میں اور ایسے نشان ہیں جو دنیا میں بہت کم دکھائے جاتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ شامل تھے لیکن اُن کے لڑکے کا جنازہ مہمان خانہ میں پڑا رہا مگر کسی نیک بخت کو یہ نہیں سو جھا کہ وہ مساجد میں اعلان کرے کہ فلاں کا جنازہ آیا ہے احباب نماز میں شامل ہوں ؟ پھر فرمایا : ہر حال ایسے کارکنوں کے خلاف مناسب اقدام کیا جائے گا اور انہیں سرزنش کی جائے گی لیکن چونکہ یکی جنازہ میں شریک نہیں ہو سکا اس لئے نماز جمعہ کے بعد میں اُن کا جنازہ پڑھاؤں گا یا سے چنانچہ حضور نے جمعہ کے بعد مولوی رحمت اللہ صاحب کا جنازہ پڑھایا اور اس طرح ہزاروں احمدیوں کو خلیفہ وقت کی اقتدا میں ایک اہم قومی و جماعتی فریضہ کی بجا آوری کا شرف حاصل ہوا۔اولادت له قريباً- پہلی زیارت نشر المقام لدھیانہ - بیعت ۶ فروری ۱۹۹۳ه۔وفات ۲۱ ر انسان / جون ۹۵ حضرت پیر صاحب سلسلہ احمدیہ کے بانی را بزرگوں میں سے تھے بہجرت قادیان سے قبل ریاست جموں کے محکمہ تعلیم میں ملازم تھے لیکن جب حضرت حاجی الحرمین الشريفين مولانا نور الدين خليفة السيح الاول) له الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۵۰ مطابق ۱۲ صلح ۲۹ ما :