تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 239 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 239

۲۳۴ مطابق وقت صرف لیگ اور کانگریس میں تقسیم تھا اگر لیگ یا کا نگر میں اجازت نہ دیتی تو کوئی اور میمورنڈم پیش نہ ہو سکتا۔جب اس فیصلہ کا علم مسلم لیگ کو ہوا تو اس خیال سے کہ ہندوؤں کی طرف سے بعض دوسری قوموں کے لیٹر بھی پیش ہوں گے شاید اس کا بھی کوئی اثر پڑ جائے لیگ نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک ملحود میمورنڈم تھے۔پیش کر دیں چنانچہ لیگ کی طرف سے ہمیں اور عیسائیوں کو ہدایت ملی کہ علیحدہ علیحدہ میمورنڈم پیش کرو ورنہ ہم پہلے ایسا کرنے کا ارادہ چھوڑ چکے تھے۔کوئی کہ سکتا ہے کہ عرف احمدیوں کو ہی علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کی اجازت کیوں دی گئی گورداسپور کی مسلم لیگ کو اجازت کیوں نہ دی گئی۔اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم لیگ گورداسپور بر حال مسلم لیگ کہلاتی ہے اور کوئی عقل مند نہیں کر سکتاکہ وہ مرکزی سلم لیگ کے ساتھ متفق نہیں ہوگی لیکن احراریوں نے یہ پراپیگنڈا کیا ہوا تھا کہ احمدی سلمان نہیں اور شبہ تھا کہ ہندو سیکھ ریڈ کلف کو یہ نہ کہ دیں کہ مسلمان احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اس لئے ان کی آبادی کو نکال کر دیکھا جائے کہ آیا گورداسپور میںمسلم اکثریت ہے یا غیر مسلم اکثریت حقیقت یہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں 4 ہزار احمدی تھے اور انہیں ملا کہ مسلمان ۵۱۶۱۴ تھے جس کے یہ معنی تھے کہ اگر احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کر دیا جاتا تو مسلمان ۲۵۶۶۹ رہ جاتے اور غیر سلم زیادہ ہو جاتے تھے پس احراریوں نے جو یہ شرارت کی کہ احمدیوں کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ سمجھا جائے اس کی وجہ سے مسلم لیگ نے فیصلہ کیا کہ ہم علیحہ میمورنڈم پیش کریں ورنہ ہند و کہ دیں گے کہ یہ سلمان نہیں اور ثبوت میں احراریوں کا فتویٰ پیش کر دیں گے۔گویا احمدی اس لئے الگ پیش نہیں ہوئے کہ وہ اپنے آپ کو الگ سمجھتے تھے بلکہ ان کے الگ پیش ہونے کی ضرورت اس لئے سمجھی گئی کہ احراریوں نے یہ اعلان کیا ہوا تھا کہ احمدی مسلمان نہیں۔اگر ان سے علیحدہ پاکستان کی حمایت یہ میمورنڈم پیش نہ کرایا جاتا تو ضلع گورداسپور میں مسلمان بڑی نمایاں اقلیت ہو جاتے تھے چنانچہ بعد میں سر تیجا سنگھ کی جرح نے ثابت کر دیا کہ اتوار سنگھوں اور ہندوؤں کی سکیم کا کیس طرح احمد یہ میمورنڈم نے خاتمہ کر دیا سرتا سنگھ نے احمد می میمورنڈم کے پیش ہونے پر سٹپٹا کرکہا کہ احمدیہ موومنٹ کا اسلام میں موقف کیا ہے ؟“ یعنی آپ لوگ تو مسلمانوں میں ہیں ہی نہیں آپ ان کی طرف سے کس طرح بول رہے ہیں پشیخ بشیر احمد صاحب نے جو احمدیوں کی طرف سے میمورنڈم پیشیں کر رہے تھے جواب دیا کہ ہمارا دعوئی ہے کہ ہم اول سے آخر تک مسلمان ہیں ہم اسلام کا