تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 237
۲۳۲ اس بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ :- حکومت نے اس بیان سے عوام کو جبل مرکب میں ڈالنے اور غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی جو نا کام کوشش کی ہے وہ انتہائی مذموم ہے۔اس بیان کا مقصد محض قادیانی جماعت پر عائد کردہ الزامات کو سر ظفر اللہ پر منطبق کر کے عوام کے ذہنوں سے اُس اثر اور دلوں سے ان تاثرات کو دور کرنا ہے جو کہ مرزائی جماعت کے متعلق ان کے دلوں میں موجود ہیں۔" آخر میں لکھا ہے:۔برسبیل تذکرہ تقریر کی روانی اور خطابت کے جوش میں سر ظفر اللہ کا نام بھی آتا رہا لیکن اصل مبحث قادیانی جماعت تھی نہ کہ سر ظفر اللہ کی ذات یں نے اصل مضمون پڑھ دیا ہے اس میں جماعت کا کہیں ذکر نہیں صرف چوہدری ظفر اللہ خان نتنا کا ذکر ہے۔پیں آزاد کا یہ دعوئی صراحتاً جھوٹا ہے۔نہ زور خطابت کا اس سے تعلق ہے نہ کسی اور شے کا خالصتا ظفر اللہ خان صاحب پر الزام ہے اور وہ بھی خلاف واقعہ کیونکہ سر ظفراللہ خان صاحب نہ جماعت کی طرف سے پیش ہوئے اور نہ انہوں نے۔۔۔یہ باتیں کہیں۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اس بیان میں جتنی باتیں بیان کی گئی ہیں وہ سب کی سب جھوٹی ہیں، کیونکہ یہ طبقہ جو احرار سے تعلق رکھتا ہے ایک فیصدی بھی بیچ نہیں بولتا پہلی بات تو میں نے بتا دی ہے کہ یہ جھوٹ ہے کہ الزام چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب پر تھا جماعت پر نہیں تھا۔اب یکی دوسری بات لیتا ہوں۔دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ جب مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی تو مرزائیوں نے مسلم لیگ کے نمائندے سے الگ اپنا وکیل کیوں پیش کیا۔میرا جواب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے الگ میمورنڈم میشیں کرنے کی وجہ احرار اوران کے ہم خیال تھے اگر وہ نہ ہوتے تو ہم کو لیگ سے علیحد میمورنڈم پیش کرانے کی ضرورت کیا تھی۔واقعہ یہ ہے کہ جب باؤنڈری کمیشن مقرر ہوا تو طبعاً ہر جماع نے خدمت قوم کے خیال سے اپنے اپنے میمورنڈم تیار کئے اور یہ خیال کیا گیا کہ جتنے زیادہ میمورنڈم ہوں گے اتناہی کمیشن پر زیادہ اثر ہوگا۔زمیندار بھی کہیں گے ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔تاجر بھی کہیں گے ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اسی طرح دوسرے لوگ بھی۔ہندوؤں کی طرف سے بھی بیسیوں انجمنوں نے میمورنڈم پیشیں کرنے کا ارادہ کیا۔اسی خیال کے ماتحت