تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 236
السوق حکومت نے اس بیان سے عوام کو جبل مرکب میں ڈالنے اور غلط فہی میں مبتلا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ انتہائی مذموم ہے (اس لئے کہ ان کے جھوٹ کو ظاہر کیا گیا ہے اور ایسا کرنا سخت غلطی ہے) اس بیان کا مقصد محض قادیانی جماعت پر عائد شدہ الزامات کو سر ظفر اللہ پر منطبق کر کے عوام کے ذہنوں سے اس اثر اور دلوں سے ان تاثرات کو دور کرتا ہے جو کہ مرزائی جماعت کے متعلق ان کے دلوں میں موجود ہے۔برسبیل تذکرہ تقریر کی روانی اور خطابت کے جوش میں سر ظفر اللہ کا نام بھی آتا رہا لیکن اصل مبحث قادیانی جماعت تھی نہ کہ سر ظفر اللہ کی ذات (گویا جو کچھ ہوانہ وار خطابت سے ہوا یعنی جب احرار میں زور خطابت پیدا ہوتا ہے تو وہ سو فیصدی جھوٹ بولا کرتے ہیں پھر کسی کو کی حتی ہے کہ ان کی اس عادت کے باوجود ان پر اعتراض کہ ہے )۔پھر لکھا ہے : " ہمارا الزام سر نہ اللہ کی ذات پر نہیں بلکہ قادیانی جماعت پر ہے (گویا جہاں ہم نے ظفراللہ کہا ہے وہاں قادیانی جماعت سمجھو ) وہ جماعت کہ سر ظفر اللہ جس کا انفین ناطقہ ہے (یعنی ہم نے خلاصہ جماعت احمد یہ نہیں لکھا ظفر اللہ لکھ دیا ہے ) اور وہ الزام یہ نہیں کہ گورداسپور کیوں گیا (گویا یہاں گورداسپور کا سوال ہی نہیں بلکہ وہ الزام یہ ہے کہ جب مسلم لیگ، تمام مسلمانوں کی واحد نمائندہ بی حالت تھی تو مرزائیوں نے مسلم لیگ کے نمائندے سے الگ اپنا وکیل کیوں پیش کیا۔اور جب انتخابات کے ذریعہ یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ حق نمائندگی صرف مسلم لیگ کو ہی حاصل ہے تو مرزائی وکیل کو باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ کہنے کا کیا حق تھا" قادیان بین الا قوامی یونٹ بن چکا ہے اور اسے حق ہے کہ ہندوستان میں رہے یا پاکستان میں ؟ اور یہ سب کچھ اس وقت کیا گیا جب سر ظفر اللہ مسلم لیگ کے نمائندہ کی حیثیت سے موجود تھے اور جب تمام مسلمان انہیں اپنا نمائندہ تسلیم کرتے تھے تو انہوں نے بشیر احمد کو جدا پیش ہونے سے کیوں نہ روکا اور کیوں قادیانیوں کو بعدا پیشی کے خلاف احتجاج نہ کیا۔اصل بات ، اصل مسئلہ، اصل ملزم، اصل مجرم قادیانی جماعت ہے کہ جس نے جدا نمائندہ اور الگ محضر پیش کیا اور مسلم لیگ کو نمائندہ تسلیم کرنے سے عملاً انکار کر دیا۔حکومت نے سر ظفر اللہ کے متعلق تحقیقات تو فرمائی اور اس کی تردید بھی کی تاکہ کسی طرح قادیانی جماعت کا چہرہ ڈھل سکے۔کیا حکومت پاکستان اس بات کی تحقیقات کو بھی تیار ہے کہ قادیانی جماعت نے وزارتی کمیشن سے کیا مطالبہ کیا تھا اور باؤنڈری کمیشن کے سامنے کیا بحث تھی۔یہ آزاد ۲ جون ۹۰ ++