تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 235
۳۳۰ ان مفروضہ بیانات کی بناء پر یہ بحث کی بجاتی ہے کہ آنریل چوہدری صاحب کی اس بحث نے کہ جماعت احمدیہ ایک علیحدہ فرقہ ہے گورداسپور کئے مسلمانوں کی عام آبادی کے تناسب کو کم کر دیا ہے اور کمیشن نے اس جماعت کی علیحدہ حیثیت کی وجہ سے گورداسپور کے مسلم اکثریت والے مضلع کو مسلم اقلیت کا ضلع قرارہ سے کر پاکستان کی حدود سے نکال دیا ایوارڈ کی رو سے اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔حکومت کو یہ اعتراضات شنکر سخت تعجب اور حیرت ہوئی ہے کیونکہ اسے پہلے ہی یہ علم تھا کہ ان اعتراضاً میں کوئی حقیقت نہیں اور یہ اصل واقعات کے بالکل خلاف ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے ان اعبر امتنا ی پوری پوری تحقیقات کی جس نے یہ ثابت کردیا کہ یہ الزامات اور اعتراضات کلیتہ بے بنیا ، خلاف واقعہ اور جھوٹے ہیں۔آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں ہر گنہ جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش نہیں ہوئے نہ آپ نے ان کی طرف سے کسی کیس کی وکالت کی اور نہ انہوں نے کبھی بحث کے دوران ہمیں وہ باتیں کہیں جو ان کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔یا سے جب گورنمنٹ کی طرف سے یہ اعلان ہوا تو اجواریوں نے سوچا کہ اب کیا کریں اب تو گورنمنٹ نے بھی تردید کر دی اور ہمارا جھوٹ ظاہر ہو گیا چنانچہ انہوں نے اپنا رخ بدل لیا۔دیکھئے کیا ہی نریم الفاظ میں اعلان ہوتا ہے " آزاد" لکھتا ہے :- " برسبیل تذکرہ تقریر کی روانی اور خطابت کے جوش میں سرظفر اللہ کا نام بھی آتا رہا لیکن اصل مبحث قادیانی جماعت تھی نہ کہ سر ظفر اللہ کی ذات آزاد ۲ جون ۱۹۵۰ امت اب ذرا اس کو پہلے بیان کے ساتھ ملا کر دیکھو کیا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا نام ضمنا آتا رہا ہے ؟ پہلے انہوں نے کہا تھا " ہمارے ظفر اللہ بھی آن موجود ہوئے کہ آج یکی پھر پیشیں ہونا چاہتا ہوں ، مگر احرار کے نز دیک یہ واقعات کا ذکر نہیں صرف خطابت اور تقریر کی روانی کا جوش ہے۔پھر کہا تھا " آج میں نے مسلمانوں کا کیس پیشیں نہیں کرنا بلکہ جماعت احمدیہ کا کیس سکھوں کے مقابلہ میں پیشیں کرنا ہے یہ یہ بھی جوش خطابت ہے اور چوہدری ظفر اللہ خان کا ذکر ضمنا آرہا ہے در اصل مخاطب جماعت احمدیہ ہے۔گویا ظفر اللہ اصطلاح ہے اور مراد اس سے جماعت احمدیہ ہے۔یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو انہوں نے بولا۔پہلے کہا چوہدری ظفر اللہ خان نے یوں کہا لیکن اس کے بعد آزاد نے مندرجہ ذیل مضمون لکھا جو میں سارا سنا دیتا ہوں پہلے لیکں نے اس کا تھوڑا سا حصہ سُنایا تھا :۔