تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 234 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 234

۲۲۹ امی علم نہیں وہ کہیں گے کہ آخر کچھ نہ کچھ تواس نے ضرور کہا ہوگا مگر بعدمیں انہیں پتہ لگا کہ یہ بات بھی ثابت نہیں ہو سکتی اس پر انہوں نے دوسرا رخ بدلا اور کہا :- جب تین مارچ ۹۴ار کے بیان سے ضلع گورداسپور کے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور جب وہ مسلم اکثریت کا ضلع تسلیم کر لیا گیا تھا اور جب قادیان بھی اس ضلع میں شامل تھا اور اس طرح قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا تھا تو پھر آپ کو کیا ضرورت محسوس ہوئی تھی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت سے علیحدہ اپنا محضر کپیش کرتے اور آپ کے اس جواب کے کیا معنی کہ ہم نے محض اس لئے پیش کیا تھا کہ قادیان پاکستان میں شامل ہو جائے جب کہ اس کے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ ایک عرصہ پہلے ہی ہو چکا تھا اور جب اس فیصلہ پر ہندوستان کو بھی اعتراض نہ تھا ہم الفضل اور ان کے وکیل شیخ بشیر احمد کو چیلنج کرتے ہیں کہ اس محضر کو جو آپ نے مسلمانوں سے جدا جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا تا من وعن شائع کرو تا کہ ملت اسلامیہ کومعلوم ہوسکے کہ تم نے ہم سے جدا کیا بات چیت کی تھی اور سر مارچ کے واضح بیان کے بعد گورداسپور ہم سے کیوں چھین لیا گیا۔151900 ) آزاد یکم جنوری شاید) یہ وہ الزامات ہیں جو عام مسلمانوں کو بھڑ کانے کے لیے احمدیوں پر لگائے گئے۔یہ صاف بات ہے کہ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ احمدیوں نے ضلع گورداسپور کو جدا کرنے کی کوشش کی اور وہاں جو خونریزی ہوئی ہے وہ محض احمدیوں کی وجہ سے ہوئی ہے تو لا زگا ان کے اندر جوش پیدا ہو گا۔چوہدری ظفر اللہ خالی صاحب کے متعلق جب یہ بات کہی گئی کہ انہوں نے گورداسپور کو پاکستان سے علیحدہ کرانے کی کوشش کی تو چونکہ وہ حکومت کے رکن تھے اس لئے حکومت مجبور ہوئی کہ وہ اس کی تردید کرے بچنا نچہ حکومت نے اعلان شائع کیا کہ : یہ کہا گیا ہے کہ جولائی ۹۴۷لہ میں باؤنڈری کمیشن کے روبرو آنریل چوہدری محمد ظفراللہ خان موجودہ وزیر خارجہ پاکستان نے مسلم لیگ کی طرف سے کہیں کشیں کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی بحث کرنے کی اجازت دی جائے اور پھر بحث کے دوران میں انہوں نے کمیشن سے کہا کہ قادیان کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے دوران بحث اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ احمدیہ جماعت عام مسلمانوں سے ایک علیحدہ امتیازی حیثیت کی مالک ہے پھر