تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 225 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 225

۲۲۰ کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہیں پھر گھلے بندوں ہم پرچھا حملے کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی (نعوذ باللہ ) ہتک کر رہے ہیں حالانکہ اگر دنیا میں کوئی ایسا فرقہ موجود ہے جو رسول کریم کے عشق میں گدانہ اور آپ کے نام اور عزت کو قائم کرنے والا ہے تو وہ صرف احمدیت ہی ہے۔ہماری تو بنیاد ہی یہ ہے کہ رسول کریم کا نور ہمیشہ قائم رہے گا۔آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آخری زمانہ میں آپ کے ہی ایک غلام نے آپ کے دین کو زندہ کرنا ہے کیا کوئی عقلمند کہ سکتا ہے کہ ایسا فرقہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر سکتا ہے۔یہ عقلی طور پر محال ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص کسی دوسرے کے شاگر دہونے کا بھی دعونی کرے اور پھر اس کو جاہل بھی کہے بیان اس تمہید کے بعد حضور نے سب سے پہلے اس افترا کی قدامی کھولی کہ احمدی انگریزی استعمار کے ایجنٹ ہیں چنانچہ حضور نے فرمایا :- ہماری جماعت کے خلاف لوگوں میں اشتعال پیدا برطانوی اینٹ ہونے کے الزام کا جواب کرنے کے لئے مخالف علماء کی طرف سےجو غلط نہیں پیدلو کی جاتی ہیں ان میں سے ایک بڑی غلط فہمی یہ پھیلائی جاتی ہے کہ انگریزوں کی عادت تھی کہ وہ رعایا میں تفرقہ ڈال کر حکومت کیا کرتے تھے چنانچہ اس عادت کے مطابق انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے احمدیوں کو کھڑا کیا گویا احمدی نعوذ باشد انگریز کے ایجنٹ ہیں اور انہی کی سکیم کے مطابق اس جماعت کا وجود عمل میں آیا ہے۔یہ اعتراض اس قدر بودا اور دور از حقیقت ہے کہ میں حیران ہوں لوگوں نے اسے کیونکر قبول کر لیا۔اگر وہ ذرا بھی غور کرتے اور سوچتے اور تدبر سے کام لینے کی عادت پیدا کرتے تو اس غلط فہمی میں بھی مبتلا نہ ہوتے۔اس اعتراض کی لغویت تو اس سے ظاہر ہے کہ خود اپنی علماء کے پیشرو ایک زمانہ میں جبکہ انگریز حکمران تھا بڑے زور سے کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب حکومت کے باغی ہیں اگر ان کی طرف فوری توبہ نہ کی گئی تو حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔چنا نچہ حضرت کی موجودعلیہ الصلوۃ و السلام کے پانچ سات سال بعد کی کتب جو مخالف علماء کی طرف سے چنانچہ لکھی گئیں ان میں کہیں بھی یہ اعتراض نظر نہیں آتا کہ مرزا صاحب انگریزوں کے ایجینٹ ہیں بلکہ ان کی له الفضل 4 جنوری 19 ئه م کالم عا یہ