تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 226
۲۲۱ تمام کتب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ مرزا صاحب حکومت کے مخالف اور باغی ہیں لیکن اب یہ کہا جاتا ہے کہ احمدی انگریزوں کے اینٹ ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل غرض لوگوں کو اشتعال دلانا ہے۔جب انگریزوں کو اشتعال دلانا مقصود تھا تو یہ کہا جاتا تھا کہ مرزا صاحب حکومت کے باغی ہیں اور جب عوام کو اشتعال دلانا چاہا تو کہ دیا کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔اگر احمدی انگریزوں کے ایجنٹ تھے تو مولوی محمدحسین صاحب بٹ نوشی اور لدھیانہ کے علماء نے اُس وقت یہ کیوں لکھا کہ مرزا صاحب انگریزوں کے مخالف اور حکومت کے باغی ہیں۔ذمہ دار افسروں کو ان کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے تو اس اعتراض کو اتنی اہمیت دی تھی کہ حضرت مسیح موعود و علیہ السلام کو جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہانا بتایا گیا کہ سے سلطنت برطانیه تا هشت سال بعد ازان صنعت و فساد و اختلال ا بعض روایات میں ایام ضعف و اختلال کے الفاظ بھی آئے ہیں ، تو بعضی مصلحتوں کی بناء پر اسے شائع ہ کیا گیا بلکہ صرف اپنی جماعت کے دوستوں کو بتانے تک اکتفاء کیا گیا لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہر وقت اسی ٹوہ میں رہتے تھے کہ کوئی قابلِ اعتراض بات بل بجائے انہوں نے یہ الہام کسی احمدی سے شن لیا اور فوراً ایک مضمون لکھا کہ کیا میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ شخص ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) حکومت کا باغی ہے۔اب اسے یہ امام بھی ہونے لگا ہے کہ حکومت برطانیہ چند سال تک ہی ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فی الواقعہ انگریزوں کے الیمینٹ تھے اور جماعت احمدیہ انگریزوں کی قائم کردہ تھی تو آپ کو انگریزوں کے خلاف الہام کیوں ہوا یہ تو کوئی کہ سیکھتا ہے کہ حضرت سیح موعود علی الہ سلام کو انگریزوں نے قائم کیا کہ کیا بھی ہوسکتا تھا کہ آپ انہی کے خلاف اپنے الہامات دوستوں کو بتاتے اور پھر وہ پورے بھی ہو جاتے۔آپ کو یہ الہاد اور میں ہوا اور شادی کے بعد سے انگریزوں سرا کی حکومت میں صنعت و اختلال شروع ہو گیا۔ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئی اور آہستہ آہستہ کینڈا، آسٹریلیا اور ہندوستان میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے آزادی حاصل کر لی۔پس یہ عقلی طور پر محال ہے که حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیا جائے۔اگر آپ کو انگریزوں نے قائم کیا تھا تو چاہیئے تھا کہ وہ آپ کو ایسی باتیں سکھاتے جو ان کی تائید کرنے والی ہوتیں کیونکہ جہاں لے ملاحظہ ہو اشاعۃ السنہ جلد ۱۶ صفحہ ۱۶۸ ( حاشیہ) کے تذکرہ طبع سوم ص ۷۶۶ و تاریخ احمدیت جلد دوئم طبع دوئم ص ۲۰۴